انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 304

انوار العلوم جلد 25 304 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات میاں عبد الوہاب صاحب عمر کا مجھے دکھایا جس میں محبت بھرے الفاظ میں اللہ رکھا سے تعلقات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ہم تو بھائیوں کی طرح ہیں اور امی جان تم کو بیٹوں کی طرح سمجھتی تھیں۔یہ خط میں نے خود پڑھا تھا اور اس سے میری تسلی ہو گئی اور میں نے اس کو احمدی خیال کر کے مہمان خانے میں رہنے کی اجازت دے دی۔(3) راولپنڈی میں میرے پاس تین دن رہنے کے بعد کہنے لگا کہ مولوی علی محمد صاحب اجمیری (سیکرٹری رُشد و اصلاح) میرے اپنے آدمی ہیں اس لئے میں وہاں جاتا ہوں۔وہاں کئی دن رہا اور اس دوران میں ملتا رہا اور مختلف احمدیوں خصوصاً کرنل محمود صاحب کے گھر سے کھانا بھی کھاتا رہا۔(4) چند دنوں کے بعد اپنا تھوڑا سا سامان میرے پاس چھوڑ کر کہنے لگا کہ میں اگلی جماعتوں کا دورہ کرنا چاہتا ہوں۔یہ کہہ کر کیمبل پور، پشاور ، مردان، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بالا کوٹ تک قریباً ڈیڑھ مہینہ پھرتا رہا اور اب راولپنڈی اپنا سامان لینے کے لئے واپس آیا۔چونکہ خاکسار مری تھا اس لئے اس جگہ آ گیا اور آج ہی راولپنڈی واپس گیا ہے اور جاتے ہوئے مندرجہ ذیل پتہ دے گیا ہے۔نسبت روڈ نمبر 44 بر مکان غلام رسول 35 لاہور۔اور کہہ گیا کہ راولپنڈی سے ہو کر ربوہ جاؤں گا اور وہاں چند دن رہنے کے بعد لاہور جاؤں گا۔خدا بہتر جانتا ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے سچ اور صحیح لکھا ہے اور میں نے کسی چیز کو چھپایا نہیں ہے اور میں نے اللہ رکھا سے یہ سلوک محض اس لئے کیا کہ وہ احمدی ہے اور باقی افراد جماعت بلکہ مکرم امیر صاحب راولپنڈی کو بھی ملتا رہا ہے۔ان میں سے کسی نے بھی مجھے یہ نہیں کہا تھا کہ اس کو اپنے پاس مت رکھو۔نوٹ: لاہور میں وہ اکثر جو دھامل بلڈنگ میں مکرم عبد الوہاب صاحب عمر اور حافظ اعظم صاحب کے پاس رہتا ہے۔اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ میرے تعلقات حافظ مختار احمد صاحب اور مولوی خورشید احمد منیر مربی لاہور اور قاضی محمد یوسف صاحب پراونشل امیر سرحد کے ساتھ گہرے ہیں۔