انوارالعلوم (جلد 25) — Page 277
انوار العلوم جلد 25 277 سیر روحانی نمبر (9) اچھے ہیں جیسے مینا اور طوطا بولتے ہیں یا بے 47 ہیں وہ بھی بولتے ہیں۔تو مختلف قسم کے فائدے ہیں جو اُن سے پہنچتے ہیں۔اسی طرح کوئی سواری کے کام آتا ہے، کسی کا چمڑا اچھا ہوتا ہے، کوئی کھانے کے کام آتا ہے، کسی سے پوستینیں، جوتے اور بوٹ بنتے ہیں۔علم معیشت کی نہر پھر علم معیشت کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ حج کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔کیس عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمُ - 48- یعنی تمہارے لئے یہ کوئی گناہ کی بات نہیں کہ تم حج کے ایام میں تجارت کے ذریعہ اپنے رب سے اس کا کوئی اور فضل بھی مانگ لو۔اسی طرح فرماتا ہے۔فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہ۔19 جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تمہارا سارا وقت حج اور نماز کے لئے نہیں ہو تا بلکہ تمہیں علیم معیشت بھی سیکھنا چاہئے۔اور اپنے اوقات کو اس طرح تقسیم کرنا چاہئے کہ کچھ وقت نمازوں میں لگاؤ اور کچھ دنیا کے کاموں میں لگاؤ تا کہ تمہارے خاندان اور تمہارے ملک کی حالت اچھی ہو جائے۔علم الاقتصاد کی نہر پھر علم الاقتصاد کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے فرماتا ہے ولا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا - 50 کہ تو اپنے ہاتھ کو بالکل روک نہ لے اور گردن کے ساتھ نہ باندھ لے اور نہ اتنا پھیلا کہ سارا مال ضائع ہو جائے۔گویانہ تو بخل سے کام لے اور نہ اسراف سے کام لے۔کیونکہ کئی مواقع انسان پر ایسے بھی آتے ہیں جب اس کو پھر مال کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔اگر کوئی شخص جوانی میں کمائی کرتا اور اُسے عیاشی میں اُڑا دیتا ہے تو بعد میں اگر وہ خود بیمار ہوتا ہے یا اس کے بیوی بچے بیمار ہوتے ہیں تو اُسے علاج کے لئے کوئی پیسہ نہیں ملتا۔پس فرمایا کہ اپنے اموال کو ہمیشہ اس طرح تقسیم کرنا چاہئے کہ کچھ بچاؤ اور کچھ خرچ کرو۔اسی طرح فرماتا ہے يَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْو۔اے لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں