انوارالعلوم (جلد 25) — Page iii
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اور اُس کی دی ہوئی توفیق سے ادارہ فضل عمر فاؤنڈیشن کو سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی حقائق و معارف سے پر سلسلہ تصانیف انوار العلوم کی پچیسویں جلد احباب جماعت کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔وَ مَا تَوْفِيْقَنَا إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيْزُ الْحَكِيمُ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام منشاء الہی کے مطابق جنوری 1886ء میں ہوشیار پور تشریف لے گئے اور اپنے مولیٰ سے تائید دین کے لئے نشان مانگا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی متضر عانہ دعاؤں کو سنتے ہوئے انہیں قبولیت کا شرف بخشا اور آپ کو مہتم بالشان پیشگوئی سے نوازا جسے آپ نے 20 فروری 1886ء کو شائع فرمایا۔اس پیش خبری میں موعود پسر کی عظیم الشان علامات کا بیان ہوا ہے۔ان علامات میں پسر موعود نے سخت ذہین و فہم ہونا تھا، اسے علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جانا تھا، اُس سے قوموں نے برکت پانی تھی، کلام اللہ کا مر تبہ اُس کے ذریعہ ظاہر ہو نا تھا۔بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کر و نگادُور اُس مہ سے اندھیرا دکھاؤنگا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْآعَادِي دل کی غذا اور محبوب الہی کی بشارتوں کا ظہور سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی کی ذات بابرکات میں ہوا جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر 1944ء میں مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔