انوارالعلوم (جلد 25) — Page 271
انوار العلوم جلد 25 271 سیر روحانی نمبر (9) اُس میں فلسفہ تاریخ پر ہی بحث ہے۔ایک انگریز پروفیسر ایک دفعہ مجھے قادیان میں ملنے آیا تو میں نے اُس سے کہا کہ فلسفہ تاریخ پر اگر کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ کتاب تم کو معلوم ہے تو بتاؤ۔وہ کہنے لگا کہ دیباچہ ابن خلدون سے بڑھ کر یورپ اور امریکہ میں کوئی کتاب نہیں۔جو کچھ فلسفہ اس نے بیان کیا ہے اس سے بڑھ کر ہم بیان نہیں کر سکتے وہ سب سے اعلیٰ کتاب ہے۔مگر ابن خلدون نے فلسفہ تاریخ کو کیوں بیان کیا؟ اسی لئے کہ قرآن کریم میں اس نے پڑھا تھا کہ ہر چیز کا فلسفہ معلوم کرو۔جب تم معلوم کرو گے تو تمہیں اصل راز کا پتہ لگ جائے گا۔اُس نے سوچا کہ اسلامی حکومتیں کیوں تباہ ہوئیں؟ دوسرے ملک کیوں تباہ ہوئے ؟ اور اُس نے فلسفہ سیاست پر غور کیا تو یہ دیباچہ لکھا۔مگر اُسے اس علم کا قرآن کریم سے ہی پتہ لگا کیونکہ قرآن کریم نے ہی اس علم کی طرف توجہ دلائی ہے۔علیم منطق کی نہر پھر علم منطق کو لو وہ بھی قرآن کریم بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا انْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الفَيْنَا عَلَيْهِ اباءَنَا - اَو لَو كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ۔37 یعنی جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اُس کی فرمانبرداری کرو۔تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی فرمانبرداری کرینگے جس پر ہمارے باپ دادا چلتے تھے۔فرماتا ہے تمہارے باپ دادا چاہے بیوقوف ہی ہوں تب بھی اُن کے پیچھے چلو گے ؟ یہ تو تم کہہ سکتے ہو کہ ہمارے باپ دادا عقلمند تھے اس لئے ہم اُن کی بات مانیں گے مگر یہ کہنا کہ چاہے وہ بیوقوف تھے یا عقلمند ہم نے چلنا اُن کے پیچھے ہے یہ عقل کے خلاف بات ہے۔اور منطق اسی کو کہتے ہیں کہ دلیل کے ساتھ ثابت کیا جائے کہ کونسی بات زیادہ معقول ہے اور کونسی غیر معقول۔یہاں منطقی دلیل سے قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ جو بات معقول ہو اُس کو ماننا چاہئے اور جو غیر معقول بات ہو اس کو نہیں مانا چاہئے۔عظیم موازنہ مذاہب کی نہر اسی طرح عظیم موازنہ، مذاہب کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے