انوارالعلوم (جلد 25) — Page 259
انوار العلوم جلد 25 259 سیر روحانی نمبر (9) " سبھوں نے ایک ہی روحانی خوراک کھائی اور سبھوں نے ایک ہی روحانی پانی پیا کیونکہ انہوں نے اُس روحانی چٹان میں سے جو اُن کے ساتھ چلی پانی پیا اور وہ چٹان مسیح تھی۔ " 14 ان آیات قرآنیہ ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور انجیل کے حوالہ سے یہ بات ثابت ہے کہ روحانی کتابوں میں پانی سے مراد علم روحانی ہوتا ہے اور اس کی مشابہت میں کبھی دُنیوی علوم بھی مراد ہوتے ہیں۔ مگر دیکھو کہ قرآن کریم کے علم اور مسیح کے حواریوں کے علم میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔ قرآن تو کہتا ہے کہ چٹان کے پیچھے پانی ہوتا ہے جو چٹان کو پھاڑ کر نکل آتا ہے اور مسیح کے حواری کہتے ہیں کہ :- سبھوں نے ایک ہی روحانی پانی پیا کیونکہ انہوں نے اُس روحانی چٹان میں سے جو اُن کے ساتھ چلی پانی پیا۔" یہ ایک خیالی مثال ہے جس کی کوئی تصدیق نہیں ملتی۔ لیکن چٹانوں کے پیچھے سے پانی کے چشمے نکلنے کی تو ہر پہاڑ پر مثالیں موجو د ہیں۔ پس یہ ایک سچی اور طبعی مثال ہے۔ مگر انجیل کی مثال نہایت مضحکہ خیز ہے۔ انجیل کہتی ہے کہ :- پانی پیا۔" " انہوں نے اُس روحانی چٹان میں سے جو اُن کے ساتھ چلی اب بتاؤ وہ کونسی چٹان ہے جو ساتھ ساتھ چلتی ہے اور لوگ اُس سے پانی پیتے ہیں؟ کوئی بھی نہیں۔ لیکن جن چٹانوں کا قرآن کریم ذکر کرتا ہے ایسی ہزاروں چٹانیں موجو د ہیں اور ہر شخص جانتا ہے کہ وہ چٹانیں پھٹتی ہیں تو اُن کے پیچھے سے پانی نکل پڑتا ہے۔ پھر مسیحیوں نے بڑا زور مارا تو کہا کہ " وہ چٹان مسیح تھی۔ "جو اُن کے ساتھ ساتھ چلی اور جس کے پیچھے سے انہوں نے پانی پیا۔ مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ ہر مؤمن خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ایک چٹان ہوتا ہے جس کے پیچھے پانی ہوتا ہے اور جس سے لوگ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ گویا قرآن کریم اس پانی کو ہر انسان کے دل تک پہنچاتا ہے اور انجیل