انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 254

254 سیر روحانی نمبر (9) انوار العلوم جلد 25 بجائے اگر کتا بیں دی جائیں، فیسیں دی جائیں تو اس سے بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔پس انجمن نظارت تعلیم کے طریق کار کو بھی بدلے اور نظارت زراعت قائم کرے اور سارے زمینداروں کو منظم کرے۔سارے علاقوں کے متعلق گورنمنٹ کے گزٹ ھے ، گورنمنٹ کی رپورٹیں پڑھے اور دیکھے کہ کس علاقہ میں کپاس ہوتی ہے اور پھر کس قسم کی ہوتی ہے۔کیونکہ زمیندارہ میں ایک ایک چیز آگے قسم در قسم چلتی ہے۔مثلاً بعض علاقے ایسے ہیں جن میں دیسی کپاس اچھی ہوتی ہے، بعض میں امریکن کپاس اچھی ہوتی ہے۔جس زمین میں امریکن کپاس اچھی ہوتی ہے اس میں دیسی کپاس بونا ظلم ہے اور جس میں دیسی کپاس اچھی ہوتی ہے اُس میں امریکن کپاس بونا ظلم ہے۔ہماراز میندار سیہ خیال کر لیتا ہے کہ چونکہ امریکن کپاس مثلاً تیس روپے من بکتی ہے اور دیسی کپاس ہیں روپے من بکتی ہے۔اس لئے ضرور امریکن کپاس بونی ہے۔وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس علاقہ میں امریکن کپاس تو تین من ہوتی ہے اور دیسی کپاس اٹھارہ من ہوتی ہے۔اگر دیسی کپاس ہیں روپے من بھی ہوئی تب بھی تین سو ساٹھ روپے کی ہوئی۔اور امریکن کپاس اگر تیس روپے من ہوئی تب بھی نوے روپے کی ہوئی۔وہ صرف یہ دیکھ لیتا ہے کہ منڈی میں کس کی قیمت زیادہ ہے۔پس ان کو بتایا جائے کہ تم وہ چیز بوؤ جو تمہارے علاقہ میں زیادہ اچھی ہوتی ہے۔اور یہ کام ہمارے دفتروں کا ہے کہ وہ گزٹ پڑھیں، زمیندارہ کے متعلق گونمنٹ کی رپورٹیں پڑھیں اور جو چیز جس جگہ زیادہ ہو سکتی ہو وہاں اس کے متعلق جاکر کہیں کہ یہ چیز بود۔پھر دیکھو خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس علاقہ کی کایا پلٹ جائے گی۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض جگہ پر تل نہیں ہوتے۔اگر وہ بوئے جائیں تو دس پندرہ سیر نکلیں گے۔لیکن زمیندار اس لئے کہ گھر دی تل شکر ہی کھاواں گے"۔ضرور ایک کنال تل بو دیتا ہے چاہے اندر سے کچھ بھی نہ نکلے۔وہ کہتا ہے۔"گھر دے تل ہون گے وچ شکر پاکے اوہ کھاواں گے"۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اگر میرے ہاں اچھی گندم پیدا ہوتی ہے اور وہ پچاس من آجائے گی تو میں اس سے دس گنے تل خرید لوں گا۔یہ خیال اُس کو نہیں آتا۔پس یہ محکمہ بنا ہوا ہو جو تمام علاقوں کی پیداوار کے لحاظ سے تقسیم کرے اور مجھے