انوارالعلوم (جلد 25) — Page 246
انوار العلوم جلد 25 246 سیر روحانی نمبر (9) کر دیں چیئر مین کی رائے کو۔وہ کہدیں ہم نہیں جانتے تجارت کیا ہوتی ہے فوراً چھاپو۔بک جائے گا تو الْحَمدُ ِللهِ خدا کا فضل ہے۔نہ بکے گا تو جس ثواب کے لئے ہم نے کمپنی بنائی تھی وہ حاصل ہو جائے گا۔پس قرآن شریف کا گورمکھی اور ہندی ترجمہ فوراً شائع ہونا چاہئے۔ورنہ یہ سمجھو کہ قادیان کی خیر کوئی نہیں۔تم جب آنکھوں میں جھوٹے آنسو لا کے مجھے آکر کہتے ہو کہ قادیان کب ملے گی تو یہ محض جھوٹ ہوتا ہے۔کیونکہ قادیان ملے نہ ملے قادیان کے بچنے کی صورت یہی ہے کہ وہاں کے ہندو اور سکھ مسلمان ہو جائیں۔اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں۔میرا ایک بچہ وہاں رہتا ہے۔ایک بچے کو انڈونیشا میں تبلیغ کے لئے بھیجا ہوا ہے۔بعض دفعہ بیماری میں دل میں گھبر اہٹ پیدا ہوتی ہے کہ وہ بچہ تو وہیں رہ جائے گا۔اُس کی شکل بھی نہیں دیکھوں گا۔پھر میں نے تذکرہ پڑھا تو اُس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام لکھا تھا کہ میں تیری نسل کو دور دور ملکوں میں پھیلا دوں گا۔8 میں نے سمجھا اب میرا ایک بچہ انڈونیشیا میں بیٹھا ہے، ایک انڈیا میں بیٹھا ہے۔وہ دور دور ملکوں میں پھیل گئے۔قادیان بظاہر میلوں کے لحاظ سے دور نہیں مگر جو پاسپورٹ کی دقتیں دونوں گورنمنٹوں کے جھگڑے کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں اُس کی وجہ سے انڈیا یورپ سے بھی زیادہ دور ہے۔جنیوا کا ڈاکٹر شمٹ جو قادیان کے پاس بھی رہ گیا ہے (وہ سری گوبند پور میں آکر دو سال ٹھہر کر گیا ہے) اور جس کے پاس میں علاج کے لئے گیا تھا اُس نے مجھے کہا ڈاکٹر جے چند کا لڑکا میر اشا گر د ہے (ڈاکٹر جے چند لاہور کا بڑا مشہور ڈاکٹر تھا) اور اُس پر میں ایسا ہی اعتبار کرتا ہوں جیسے اپنے آپ پر۔اس لئے آپ کو ضرورت ہو تو آپ اس سے مشورہ لے لیں۔میں نے کہا دتی جانا ہم لوگوں کے لئے زیادہ مشکل ہے اور جنیوا آنا آسان ہے۔تو انڈیا بھی اب دور کا ملک بن گیا ہے لیکن انڈو نیشیا تو ہے ہی دور۔پس جب میں نے پڑھا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور پیشگوئی ہے تو میں نے سمجھا کہ یہ تو ہمارے لئے معجزہ ہو گیا کہ پیشگوئی پوری ہو گئی اور میں نے اپنے دل کو کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نشان ہے اور خدا تعالیٰ کے نشانوں پر گھبرانے کی بات نہیں۔اس کے کئی نشان ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔تو اس ملک کی اور