انوارالعلوم (جلد 25) — Page 241
انوار العلوم جلد 25 241 سیر روحانی نمبر (9) اللہ تعالیٰ پر تو یہ مثال چسپاں نہیں ہوتی۔بظاہر گستاخی لگتی ہے مگر ہمارے ملک والوں نے ایک مثال بنائی ہے کہتے ہیں۔" ایہہ ہے۔یملا جٹ " یعنی جٹ بعض دفعہ اپنے آپ کو ایسا سادہ بناتا ہے کہ دیکھنے والا حیران ہو جاتا ہے کہ کیا واقع میں یہ نہیں جانتا۔تو " یملا جٹ" ہمارے ملک میں اس کو کہتے ہیں جو جانتا تو ہے پر انجان بن جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی سب کچھ جانتا ہے مگر وہ بعض دفعہ انجان بھی بن سکتا ہے۔ایک قصہ مجھے ایک دفعہ کسی دوست نے سنایا کہ ایک تھانیدار نے کسی زمیندار کی بے عزتی کی اور وہ بہت ذلیل ہوا۔وہ پاگل بن گیا اور کئی سال پاگل بن کر پھر تا رہا۔جب اُس نے دیکھا کہ سارے ملک کو پتہ لگ گیا ہے کہ میں پاگل ہوں تو ایک دن ڈپٹی کمشنر کے ہاں چلا گیا اور جا کے کہا کہ میں نے ملنا ہے۔وہ ڈپٹی کمشنر کچھ مذاقی طبیعت کا تھا کہنے لگا۔ملالو۔یہ گیا تو ڈپٹی کمشنر نے گر سی دی اور یہ اس پر بیٹھ گیا۔پھر کہنے لگا صاحب! تیرا جیہڑا تھانیدار ہے اس دی کی تنخواہ ہوندی ہے “؟ اُس وقت تھانیدار کی بہت تھوڑی تنخواہ ہوا کرتی تھی اُس نے مثلاً کہا پچاس روپے۔وہ کہنے لگا کہ ”اے جیہڑا تحصیلدار ہے اُس دی کی تنخواہ ہے؟ اُس نے مثلاً کہہ دیا سو روپیہ ہے۔پھر کہنے لگا "ڈپٹی دی کی تنخواہ ہے؟" اس نے کہا اس کی اڑھائی سو تنخواہ ہے۔آخر میں کہنے لگا " تیری کی تنخواہ ہے ؟" اس نے کہا میری پندرہ سو تنخواہ ہے۔کہنے لگا کہ ”ایڈا جھوٹ ! میں بیوقوف ہی سہی مینوں سودائی کہندے ہو میں سودائی ہی سہی۔پر اپنی گل بھی نہیں سمجھدا۔ڈپٹی کمشنر کہنے لگا نہیں نہیں ہماری پندرہ سو روپیہ تنخواہ ہے۔کہنے لگا ” اوہدی پنجاہ کہندا ایں تے اوہدے گھر تے چھ مہیاں بنھیاں پیاں ہن تے بیوی دے کن ٹنڈے ہن سونے دے زیوراں نال تے گلے دے وچ سونے دے ہار پائے ہوئے۔تے گھوڑیاں اپنی رکھیاں ہوئیاں، نوکر اپنے رکھے ہوئے، تے ایناں سامان ہے۔تیرے گھر تے کچھ وی نظر نہیں آندا۔میں کس طرح من لواں کہ پندرہ سو تنخواہ ہے“۔غرض ایسی سیدھی بات کہی کہ ڈپٹی کمشنر کے دل میں شک پیدا ہو گیا۔اُس نے اُسی وقت ایک دیانتدار ڈپٹی کو بلا کر بھیجا کہ جا کے دیکھو یہ ٹھیک ہے؟ اور اس کے گھر میں دیکھو کہ گھوڑیاں ہیں؟ بھینسیں ہیں ؟