انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 239

انوار العلوم جلد 25 239 سیر روحانی نمبر (9) سے میرا دل لرز گیا کہ یا اللہ ! تیرے اتنے بندے بیٹھے ہیں جو تیرے دین کی خاطر یہاں آئے ہیں۔ان غریبوں کا اگر قیامت کے دن تو نے اپنے خبیر ہونے کے لحاظ سے حساب لینا شروع کیا تو یہ تو سارے مارے گئے۔نہ روزے ان کے کام آئیں گے ، نہ زکو تیں کام آئیں گی ، نہ حج کام آئیں گے ، نہ اور کوئی چیز کام آئے گی کیونکہ انسان کے ساتھ کمزوری لگی ہوئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ شیطان اس طرح انسان کے ساتھ ہے جس طرح کہ اس کے جسم میں خون چلتا ہے۔تو یہ بیچارے غریب تو مارے گئے۔تیرے ساتھ محبت بھی کرتے ہیں، پیار بھی کرتے ہیں، تیرے دین سے محبت کرتے ہیں، تیرے رسول سے بھی محبت کرتے ہیں، تیری کتاب سے بھی محبت کرتے ہیں پر آخر تُو نے ان کو کمزور بندہ پیدا کیا ہے۔وہ بیچارے اپنی کمزوریاں کہاں لے جائیں۔ان کمزوریوں کے ساتھ تو ان کا بیڑا غرق ہو جائے گا کیونکہ تو خبیر ہے۔تو جھٹ مجھے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ قرآن کریم میں یہ بھی تو آتا ہے کہ فَنَسِيَهُم خدا ان کو بھول گیا۔جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خدا میں یہ بھی طاقت ہے کہ وہ اپنی علم والی طاقتوں پر بھی پردہ ڈال دے اور کہے چلو ہم نے اس بات کو بھلا دیا۔ایک حدیث میں آتا ہے (گو خدا کی طرف سے نہیں آتا بندے کی طرف سے آتا ہے پر اس کا ہے اسی مضمون کے ساتھ تعلق) کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک بندے کے متعلق اس کی کسی نیکی کی وجہ سے فیصلہ کرے گا کہ اس کو بخشنا ہے لیکن اس کے اعمال ایسے ہوں گے کہ وہ دوزخ میں جائے۔اللہ تعالیٰ اُس کو بلائے گا اور کہے گا اے میرے بندے! تو نے فلاں جگہ پر یہ بدی کی تھی انکار کرنے کی تو گنجائش نہیں ہو گی۔کہے گا حضور ! یہ ٹھیک ہے میں نے کی تھی۔فرمائے گا جا اس بدی کے بدلہ میں میں نے تیرے لئے دو نیکیاں لکھ دیں۔وہ کہے گا الْحَمْدُ لِلهِ تیری یہی شان ہے۔پھر اللہ تعالیٰ ایک اور گناہ گنائے گا اور فرمائے گا تو نے یہ بھی بدی کی تھی۔کہے گا ہاں حضور کی تھی۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا چل اِس بدی کے بدلہ میں بھی میں نے تیرے لئے پانچ نیکیاں لکھ دیں۔پھر ایک اور بدی گنائے گا اور کہے گا چلو اس کے بدلہ میں میں نے تیرے لئے