انوارالعلوم (جلد 25) — Page 233
انوار العلوم جلد 25 233 سیر روحانی نمبر (9) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ سیر روحانی (9) (فرمودہ 28دسمبر 1955ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اصل مضمون "سیر روحانی" شروع کرنے سے قبل متفرق امور کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:- کل مجھے ضعف تو ہوا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے طبیعت بعد میں ٹھیک ہو گئی۔ضعف کے ساتھ مجھے گھبراہٹ بھی رہی کیونکہ مجھے پتہ نہیں لگتا تھا کہ میرا دماغ تھک گیا ہے یا نہیں تھکا۔کچھ بے حسی سی پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے کمزوری ہوئی۔آج صبح طبیعت اچھی تھی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کل کی نسبت بہت اچھی رہی۔عورتوں کے جلسہ گاہ کے متعلق ہدایت مگر میں جلسہ کے منتظمین کو توجہ دلاتا ہوں کہ جس جگہ پر میں رہتا ہوں وہ عورتوں کے جلسہ گاہ کے بالکل سامنے ہے۔مردوں کے جلسہ گاہ کی آواز تو مجھے نہیں آتی تھی مگر عورتوں کی تقریریں مجھے یوں معلوم ہو تا تھا کہ ہتھوڑے مار رہی ہیں۔بے تحاشادہ آواز اُس بر آمدہ میں گھستی تھی جو میرے کمرہ کے سامنے ہے اور متواتر بڑے زور و شور سے سنائی دیتی تھی۔ہمارے ملک میں ایک مثل مشہور ہے اس پر عورتیں بے چاری عمل کرتی ہیں۔کہتے ہیں: " بھکے جٹ کٹورا لبھا پانی پی پی آپھر یا عور توں کو کوئی بولنے نہیں دیا کرتا تھا۔ہمارے ملک میں رواج تھا۔کہتے تھے کہ عورت کی آواز نہ نکلے اس کا پر دہ ہے۔حقیقت میں تو آواز کا کوئی پردہ نہیں لیکن ہمارے ملک کے لوگوں نے ایک مسئلہ بنایا ہوا تھا