انوارالعلوم (جلد 25) — Page 226
انوار العلوم جلد 25 226 خوش اسلوبی سے چل رہا ہے۔دوسرے نوجوانوں کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔میں نوجوان کہہ رہا ہوں۔پینشن والے تو نوجوان نہیں رہتے مگر بہر حال روح نوجوانوں کی ہی ہوتی ہے جو کام آتی ہے۔پس ان کو بھی چاہئے کہ اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کریں۔کم سے کم پینشن کے قریب PREPARATORY RETIREMENT رخصت لے کر ہی آجائیں۔ایک راما صاحب آئے ہیں جنہوں نے بیت المال کا کام سنبھالا ہے۔اور ایک چودھری احمد جان صاحب آئے ہیں۔وہ بھی ملٹری میں اچھے عہدہ پر تھے۔اور لوگ بھی آئیں، اور نوجوان بھی وقف کریں۔کیونکہ اب وقت ایسا آگیا ہے کہ اعلیٰ قابلیتوں کے لوگ کثرت کے ساتھ ہمارے عہدوں پر قائم ہونے چاہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جماعت منظم ہو۔میرے نزدیک اب یہ بھی وقت آگیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے "الوصیت" میں جو رستہ کھولا تھا اُس کو بھی جاری کر کے دیکھا جائے۔یعنی چالیس مومن جس کے ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں اس کو بیعت کی اجازت دی جائے۔خلافت کا نظام قائم رکھنے کے لئے یہ رکھا جائے کہ خلیفہ کی منظوری سے ایسا ہو۔اِس طرح خلافت کا نظام بھی پکا رہے گا اور لوگوں میں بھی ایک نیا جوش پیدا ہو جائے گا۔میں سمجھتا ہوں اگر امریکہ اور افریقہ میں اس قسم کے آدمی مقرر کر دیئے جائیں جن کو بیعت کا اختیار مقامی لوگوں کے انتخاب کے ساتھ دیا جائے تو ان میں اخلاص اور زیادہ ترقی کر جائے گا۔گو یا خلافت ایک رنگ میں وہاں بھی پیدا ہو جائے گی۔آخر جماعتوں میں امیر اور نائب امیر ہوتے ہیں۔اِس طرح اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ خلیفہ دور ہے اگر ایسے لوگ بیعت لینے پر مقرر کر دیئے جائیں تو جماعتی لحاظ سے بہت مفید ہو سکتا ہے۔لوگوں کو بڑا شوق ہوتا ہے کہ ہم نے ہاتھ پر بیعت کرنی ہے۔اگر یہ اجازتیں دی جائیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کا بڑا فائدہ ہو گا۔میں نے خلیل احمد صاحب ناصر سے مشورہ کیا تھا۔کہنے لگے کہ امریکہ میں تو یقیناً اثر ہو گا کیونکہ نیگر وز2 میں اس کا بڑا احساس ہوتا ہے۔اگر ان کو پتہ لگے کہ یہیں ایک آدمی ہمارے انتخاب کے بعد سلسلہ کی طرف