انوارالعلوم (جلد 25) — Page 211
انوار العلوم جلد 25 211 متفرق امور ماں باپ کو چاہئے وہ اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کیا کریں۔آخر ماں باپ نے ان کو پالا ہے۔وہ کہیں بیٹا ! تمہارا فرض ہے کہ بڑھاپے میں ہماری خدمت کرو لیکن یہ جو ہم تمہیں کہہ رہے ہیں یہ اپنے لئے نہیں کہہ رہے بلکہ خدا کے لئے بھی کہہ رہے ہیں۔اگر تمہاری آمد زیادہ ہو گی تو ہم پر بھی خرچ کرو گے اور خدا کے دین پر بھی خرچ کرو گے۔پس اپنے بچوں کے اندر زیادہ چندے دینے کی عادت پیدا کریں۔محنت کرنے کی عادت ڈالیں۔خصوصاً ہر باپ اپنے بچہ کو تحریک جدید کے چندے کی عادت ڈالے۔ہر یک جدید کا چندہ دینے والا فیصلہ کر لے کہ میں اپنے دو تین اور احمدی بھائیوں کو یا اگر مجھ سے غیر احمدی دلچسپی رکھتے ہیں تو اُن کو بھی تحریک کروں گا کہ اس ذریعہ سے خدا کا نام بلند کیا جا رہا ہے تم بھی چندے دو۔اور لوگ دیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے طبیعت پر ذرا بھی اثر ہو تو لوگ دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔کراچی میں میرا ریسپشن (RECEPTION) ہوا تو اس کے بعد ایک ڈیپارٹمنٹ کے انڈر سیکرٹری نے اپنے ایک احمدی کلرک کو بلایا اور اُس کو پچاس روپے دیئے کہ یہ اپنے حضرت صاحب کو بھجوا دو کہ میری طرف سے کہیں دے دیں۔میں نے کہا غیر احمدی کا چندہ ہے کہیں دینے کا کیا مطلب ہے اشاعت اسلام میں ہی جانا چاہئے اور یہی اُس کا حق ہے چنانچہ میں نے وہ روپیہ اشاعت اسلام کے لئے تحریک جدید میں بھجوا دیا۔اُسے بھی اطلاع دی گئی۔وہ بڑا خوش ہوا اور کہنے لگا کہ بڑی اچھی جگہ چندہ بھجوایا ہے۔اسی طرح میں نے سیکنڈے نیوین مشن کی تحریک کی اور اس کے بعد میں لاہور گیا تو چو دھری اسد اللہ خان صاحب نے اڑھائی ہزار یا نا معلوم کتنی رقم میرے ہاتھ میں دی اور کہنے لگے کہ اس میں سے ساڑھے پانچ سو روپیہ چندہ ایک غیر احمدی کا ہے۔وہ کہنے لگے کہ جب اُس کو پتہ لگا کہ یہ تحریک اشاعت اسلام کے لئے ہے تو اس نے خود آکر چندہ دیا اور کہا کہ یہ میری طرف سے بھی دے دیں۔تو اگر ان لوگوں کو تحریک کی جائے تو وہ تو کروڑوں کروڑ ہیں۔ان کروڑوں کروڑ میں سے اگر صرف ایک کروڑ سے تمہیں پچاس پچاس بھی ملیں تو پچاس کروڑ تو تمہارا مانگا ہوا چندہ ہو سکتا ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب