انوارالعلوم (جلد 25) — Page 210
انوار العلوم جلد 25 210 متفرق امور ہمارے احمدی زمیندار اِس طرف متوجہ نہیں ہوئے حالانکہ اس میں زمیندار کا اپنا فائدہ ہے اگر اس جگہ پر چھپیں من کپاس پید اہو گی تو ساڑھے بارہ من تو ز میندار کی ہو گی۔گویا قریباً چار سو روپیہ فی ایکڑ اس کو ملیں گے۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ وہ اپنی فصل کو ضائع کرتا ہے اور اس میں گرین مینورینگ (GREEN MANURING) نہیں کرتا جس کی وجہ سے بجائے فائدہ کے اسے نقصان ہو جاتا ہے۔بلکہ بعض دفعہ تو ہم نے دیکھا ہے کہ ایک روپیہ فی ایکڑ بھی آمدن نہیں ہوتی حالانکہ یورپ کے لحاظ سے ڈیڑھ ہزار روپیہ فی ایکڑ ہمیں ملنا چاہئے اور ڈیڑھ ہزار روپیہ فی ایکڑ اس کو ملنا چاہئے۔اٹلی کا حساب بھی لگالیا جائے تو سات سو روپیہ فی ایکڑ مجھے ملنا چاہئے یا انجمن کو ملنا چاہئے جس کی زمین ہے اور سات سو روپیہ فی ایکڑ ہر احمدی زمیندار کو ملنا چاہئے۔اگر اس طرح آمد ہونے لگے تو صرف سندھ کے جو احمدی مزارع ہیں اُن سے ہی دس لاکھ روپیہ سالانہ چندہ آسکتا ہے بشر طیکہ وہ فصل یورپین طرز پر بوئیں۔پس جماعت کے زمینداروں کو توجہ کرنی چاہئے۔اس طرح ملازموں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے فرائض کو ایسی تندہی سے ادا کریں کہ اُن کو ترقی ملے۔طالبعلموں کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ایسا اچھا پڑھیں کہ اچھے سے اچھے عہدے ان کو ملیں۔ایک دفعہ میں لاہور میں تھا کہ ایک مخالف اخبار کا ایڈیٹر آیا اور کہنے لگا کہ احمدیوں کو نوکریاں مل جاتی ہیں کیونکہ احمدی افسران کو نوکریاں دلا دیتے ہیں۔میں نے کہا یہ غلط بات ہے کون سا احمد کی اس عہدہ پر ہے جس میں نوکریاں ملتی ہیں ایک ظفر اللہ خان ہی بڑے تھے۔میں نے کہا کہ ان کے دفتر میں تو کوئی نوکری ہے ہی نہیں۔وہ تو گورنمنٹ نے ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے جو نوکریاں دیتی ہے۔ظفر اللہ خان بیچارے کا تو نام بدنام ہے۔دراصل ان کو نوکری اس لئے ملتی ہے کہ میں نے ان کو سینما سے روکا ہوا ہے، میں نے ان کو لغو باتوں سے روکا ہوا ہے۔وہ پڑھتے ہیں اور تمہارے لڑکے سینما دیکھتے ہیں۔تمہارے لڑکوں کو سینما مل جاتا ہے اور ان کو نوکریاں مل جاتی ہیں۔اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے۔اگر ہمارے نوجوان تعلیم کی طرف توجہ کریں تو آہستہ آہستہ اعلیٰ نوکریاں ان کو ملیں گی اور پھر وہ زیادہ چندے بھی دے سکیں گے۔پس