انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 189

انوار العلوم جلد 25 189 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء ایمان تھا کہ بارہ نسلوں تک برابر ان میں یہ ذمہ داری کا احساس چلتا چلا گیا کہ ہم نے دین کی خدمت کرنی ہے۔اگر تمہارے بچے بھی یہ ارادہ کر لیں تو پھر کوئی فکر نہیں۔بڑھوں نے تو آخر مرنا ہے۔خدا تعالیٰ نے آدم کے زمانہ سے لے کر آج تک ہر ایک کے لئے موت مقرر کی ہوئی ہے مگر جب یہی بچے بڑھے بن جائیں گے تو پھر کوئی فکر نہیں ہو گی کہ دین کا کیا بنے گا۔یہی نو دس سال کے بچے ایسے طاقتور پہاڑ بنیں گے کہ اگر دنیا ان سے ٹکرائے گی تو دنیا کا سر پاش پاش ہو جائے گا مگر یہ اپنے مقام سے نہیں ہٹیں گے اور احمدیت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا کے رہیں گے۔لیکن یہ سارے کام دعاؤں سے ہو سکتے ہیں۔ہمارے اختیار میں تو خود اپنا دل بھی نہیں ہو تا۔لیکن خدا کے اختیار میں ہمارا بھی دل ہے ، ہماری اولادوں کا بھی دل ہے اور اولادوں کی اولادوں کا بھی دل ہے۔ہمیں تو دس بارہ نسلیں کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کیونکہ نظر تو یہ آتا ہے کہ بارہ تک پہنچنا بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔اگر یہ دریا کی نہر ہمارے دہانے میں سے گزرے تو خبر نہیں بارہ نسلوں تک پہنچے گی بھی کہ نہیں۔مگر خدا کی یہ طاقت ہے کہ وہ بارہ ہزار نسلوں تک پہنچا دے۔اس لئے آؤ ہم خدا سے دعا کریں کہ وہ اس جلسہ کو بابرکت کرے اور اللہ تعالیٰ ہماری اولادوں کو ہزاروں پشتوں تک دین کا بوجھ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیشہ ان میں ایسے کامل انسان پیدا ہوں جو اللہ تعالیٰ سے براہ راست تعلق رکھنے والے ہوں اور اس کے دین کی اشاعت کرنے والے ہوں تا کہ احمدیت اور اسلام کا پیغام دنیا میں پھیل جائے اور ہم خدا تعالیٰ کے سامنے سر خرو ہو جائیں۔اپنی طاقت سے نہیں، اپنی قوت سے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کیونکہ یہ طاقت خدا میں ہے ہم میں نہیں۔ہمارا دعویٰ کرنا باطل ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہماری اولاد میں سے کسی کو خدمت دین کی توفیق ملتی ہے تو ہماری وجہ سے نہیں ملتی خدا کی وجہ سے ملتی ہے۔ہم میں اس کی توفیق نہیں ہے۔اگر ہم میں توفیق ہوتی تو ہم اپنی ساری اولادوں کو کیوں نہ ٹھیک کر لیتے۔اب میں دعا کروں گا مگر اس سے پہلے مختلف مقامات سے دوستوں کی جو تاریں دعا کے لئے آئی ہوں وہ اختر صاحب پڑھ کر سنا دیں گے۔“