انوارالعلوم (جلد 25) — Page 170
انوار العلوم جلد 25 170 مجلس انصار الله و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955 ءمیں خطابات مگر اُس وقت یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیماری کا ایسا تصرف جسم پر نہیں ہے جیسا کہ وہ بعض وقت محسوس ہوتا ہے۔آج جو انصار اللہ کی رپورٹ میرے پاس آئی۔اُس میں لکھا تھا کہ کسی دوست نے ایک سوال کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ سب سے اعلیٰ مقام تو کل کا مقام ہے۔وہاں جواب تو دیئے گئے مگر میں سمجھتا ہوں کہ کچھ میں بھی اس بارہ میں کہوں۔تو کل کے معنے ہوتے ہیں انسان اپنی بات خدا کے سپر د کر دے۔مگر مسلمانوں میں اس لفظ کا بڑا غلط استعمال ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کے سپرد کرنے کے تو یہ معنی تھے کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قاعدہ کے مطابق چلے۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہاتھ پیر بھی دیئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں دماغ بھی دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بعض دنیوی سامان بھی دیئے ہیں۔ایسی صورت میں خدا کے سپرد کرنے کے یہی معنی ہیں کہ جو کچھ خدا نے جس کام کے لئے دیا ہے اس کو ہم استعمال کریں۔پس تو گل کا پہلا مقام یہ ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہم کو دیا ہے جسمانی ہو یا مالی ہو یا اخلاقی ہو اس کو ہم زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔اس کے بعد جو کمی رہ جائے وہ خدا کے سپر د کر دیں اور یقین رکھیں کہ خدا اس کمی کو ضرور پورا کر دے گا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا۔آپ نے بدر کے موقع پر صحابہ کی ایک ترتیب قائم کی۔ان کو اپنی اپنی جگہوں پر کھڑا کیا۔انہیں نصیحتیں کیں کہ یوں لڑنا ہے اور اس کے بعد ایک عرشہ پر بیٹھ کر دعائیں کرنے لگ گئے۔یہ نہیں کیا کہ صحابہ کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور بیٹھ دعائیں کرنے لگ جاتے۔بلکہ پہلے صحابہ کو لے کر مقام جنگ پر پہنچے پھر ان کو ترتیب دی اور ان کو نصیحتیں کیں کہ یوں لڑنا ہے اس کے بعد عرشہ پر بیٹھ گئے اور دعائیں کرنی شروع کر دیں۔یہ تو گل ہے۔ہر وہ شخص جو اُن سامانوں سے کام نہیں لیتا جو خدا تعالیٰ نے اس کو بخشے ہیں اور کہتا ہے کہ میں خدا پر چھوڑتا ہوں وہ جھوٹا ہے ، وہ خدا سے تمسخر کرتا ہے۔اور ہر وہ شخص جو سامانوں سے کام لیتا ہے اور کہتا ہے اب یہ کام میں کروں گا وہ بھی جھوٹا ہے وہ خدا پر اعتبار نہیں کرتا۔کام آسان ہوں یا مشکل آخر ان کی کنجی خدا کے اختیار میں۔ٹھ کر