انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 151

انوار العلوم جلد 25 151 سفر یورپ سے واپسی پر کراچی میں خطار ----- پھر انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی چالیس سالہ پریکٹس میں جتنی اچھی آرٹریز آپ کی دیکھی ہیں اتنی اچھی آرٹریز آپ سے سولہ سال کم عمر والوں کی بھی میں نے نہیں دیکھیں۔پس یہ بیماری آپ کو ہلا ہی نہیں سکتی تھی اگر ذرا بھی احتیاط سے کام لیا جاتا۔بیماری کے حملہ کے وقت میری عمر چھیاسٹھ سال تھی۔انہوں نے کہا کہ پچاس سالہ عمر والے آدمیوں کی آرٹریز بھی میں نے اپنی چالیس سالہ پریکٹس میں اتنی اچھی نہیں دیکھیں جتنی آرٹریز آپ کی اچھی ہیں۔اس لئے اگر احتیاط سے کام لیا جاتا تو یہ ناممکن تھا کہ آپ پر اس بیماری کا حملہ ہو جاتا۔اس بیماری کا دوسرا اثر میری بینائی پر پڑا ہے کیونکہ اس بیماری کا حملہ میری دائیں آنکھ کے بائیں کونے پر ہوا تھا مگر اوپر کے کونہ پر نہیں بلکہ نچلے کو نہ پر۔ڈاکٹر روسیو نے پہلے بھی میری آنکھ کا معائنہ کیا تھا اور اب پھر آتی دفعہ میں نے معائنہ کروایا ہے۔دوسرے معائنہ پر اس نے کہا ہے کہ آپ کی نظر پہلے سے کافی ترقی کر چکی ہے۔پہلے تو میں ایک دو سطر بھی نہیں پڑھ سکتا تھا مگر اب خطوط پڑھ لیتا ہوں اور اخبار پڑھنے کی بھی میں کوشش کرتا ہوں۔مگر دو تین صفحوں سے زیادہ نہیں پڑھ سکتا کیونکہ پڑھتے پڑھتے نگاہ گھبرانے لگتی ہے اور بعض جگہ نظر اُچٹ کر دوسرے مقام پر جا پڑتی ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھے اس بارہ میں وضاحت کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ دوستوں کو ابھی احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے صحت ہے مگر ہمارے ملک میں تعلیم اتنی کم ہے کہ جب کسی کے متعلق وہ یہ سنیں کہ اسے صحت ہو گئی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اب وہ عام آدمی سے پانچ سو گنا زیادہ کام کر سکتا ہے حالانکہ اس کے صرف اتنے معنی ہوتے ہیں کہ وہ عام آدمی سے دو سو حصہ کم کام کر سکتا ہے۔اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ ابھی صحت اچھی نہیں تو اس سے دوستوں کو صدمہ پہنچنے کا ڈر ہوتا ہے اور یہ بھی خیال آتا ہے کہ دشمنوں کے لئے خوشی کا موقع پیدا ہو جائے گا۔گو یا دونوں پہلوؤں کے لحاظ سے ہمارے لئے دقت ہوتی ہے۔اگر چپ رہیں تب مشکل اور اگر بولیں ہ مسودہ میں اِس جگہ چند الفاظ واضح نہیں۔