انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 130

انوار العلوم جلد 25 130 احباب جماعت کے نام پیغامات کی طرف دیکھا جو ساتھ کی کرسی پر تھے۔تو اُن کا چہرہ مجھے بہت نڈھال نظر آیا اور مجھے یہ و ہم ہو گیا کہ چودھری صاحب بھی بیمار ہو گئے ہیں اب یہ دوو ہم جمع ہو گئے۔ایک یہ کہ مجھ پر دوبارہ فالج کا حملہ ہو گیا اور ایک یہ کہ چودھری صاحب بھی بیمار ہو گئے۔اس سے تکلیف بہت بڑھ گئی۔آخر میں نے منور احمد سے کہہ کر نیند کی دوائی منگوائی۔چودھری صاحب نے قہوہ منگوا کر دیا۔وہ گرم گرم پیا۔ایک ایسپرین کی پڑیا کھائی تو پھر جا کر نیند آئی اور ایسی گہری نیند آئی کہ جب چودھری صاحب صبح کی نماز پڑھ چکے تو میں جا گا۔چودھری صاحب نے عذر کیا کہ آپ کی بیماری اور بے چینی کی وجہ سے میں نے آپ کو نماز کے لئے نہیں جگایا۔بہر حال قضائے حاجات کے بعد کرسی پر نماز ادا کی اور پھر ناشتہ کیا۔اتنے میں روشنی ہو چکی تھی۔دور دور سے عرب اور شام کی زمینیں نظر آرہی تھیں۔بہر حال بقیہ سفر نہایت عمدگی سے کٹا اور ہم سات بجے دمشق پہنچ گئے۔ایروڈروم پر دمشق کی جماعت کے احباب تشریف لائے ہوئے تھے جو سب بہت اخلاص سے ملے۔برادرم منیرا بھی جماعت کے ساتھ تشریف لائے ہوئے تھے۔ایروڈ روم کے ہال میں جا کر بیٹھ گئے جہاں پاکستان کے منسٹر بھی چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کے ملنے کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔مستورات کے لئے برادرم سید بدرالدین حصنی جو منیر الحصنی صاحب کے چھوٹے بھائی ہیں کی مستورات تشریف لائی ہوئی تھیں وہ مستورات کو گھر لے گئیں پیچھے پیچھے ہم بھی پہنچ گئے۔محبت اور اخلاص کی وجہ سے بدرالدین صاحب حصنی نے سارا گھر ہمارے لئے خالی کر دیا ہے۔اس وقت بھی ہم اس میں ہیں۔جس محبت سے یہ سارا خاندان ہماری خدمت کر رہا ہے اس کی مثال پاکستان میں مشکل سے ملتی ہے۔برادرم سید بدرالدین حصنی شام کے بڑے تاجر ہیں۔لیکن خدمت میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ خادم زیادہ نظر آتے ہیں رئیس کم نظر آتے ہیں۔یہاں چونکہ سردی بہت ہے اور یورپ کی طرح Heating system نہیں ہے۔مجھے سردی کی وجہ سے تکلیف زیادہ ہو گئی ہے۔یہاں کے قابل ڈاکٹر کو بلایا گیا۔جس کے معائنہ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ واقعی قابل ہے۔فرانس کا پڑھا ہوا ہے۔بعض امور جو تجربہ سے بیماری