انوارالعلوم (جلد 25) — Page 123
انوار العلوم جلد 25 123 احباب جماعت کے نام پیغامات پیغام از کراچی مورخه 1955ء-4-19 بوقت نو بجے صبح " یوں طبیعت بہتر ہو رہی ہے مگر عارضی طور پر طبیعت گرتی ہے۔کل سے رض کے بعض حصوں کی زیادتی معلوم ہوتی ہے یعنی بائیں بازو کی حرکت میں جو آسانی پیدا ہو گئی تھی اس میں کمی آگئی ہے۔مٹھی بناتے وقت انگلیاں سیدھی ہونے لگ گئی تھیں اب پھر مڑنے لگ گئی ہیں لیکن یہ فرق بھی ہے کہ پہلے میں بائیں ہاتھ کی مدد سے ازار بند باندھ نہیں سکتا تھا اب میں باندھنے پر قادر ہو گیا ہوں۔کسی قدر عجیب سا معلوم ہوتا ہے مگر باندھ لیتا ہوں۔اسی طرح پہلے بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں پوری جس نہیں تھی۔جب انگلیاں میں ملاتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ کچھ جس میں فرق ہے۔دائیں ہاتھ کی تشہد کی انگلی اور انگوٹھے سے چھوٹی چیزیں نہیں پکڑی جاتی تھیں، پھسل جاتی تھیں۔اب تشہد کی انگلی اور انگوٹھے سے موتی پکڑ بھی لیتا ہوں اور اٹھا کر دوسری جگہ رکھ بھی دیتا ہوں۔مگر انگلیوں کے بند کرنے میں بد نمائی ابھی تک قائم ہے۔احباب دعا کرتے رہیں اب ہمارے یورپ کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب آ گیا ہے۔آج یہ مشورہ کر رہے ہیں کہ وہاں کی سردی مضر تو نہیں ہو گی۔اس وقت تک ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ جنوبی یورپ کی سردی مضر نہیں ہو گی۔بلکہ اگر گرمی کا خیال رکھا جائے تو مفید ہو گی۔کچھ دنوں سے بائیں کندھے میں بھی درد ہے جس کو ڈاکٹر محض تھکان قرار دیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ بیماری کی وجہ سے خون کا دورہ پورا نہیں ہوتا اس لئے جس بازو پر آپ زیادہ لیٹے رہتے ہیں اُس میں درد ہونے لگتا ہے۔ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ جب وہ حملہ ہوا جسے فالج سمجھا گیا تھا تو اس کے بعد میں بائیں ہاتھ میں قینچی نہیں پکڑ سکتا تھا۔اور انگلیوں میں اتنا ضعف تھا کہ میں قینچی کے سوراخوں میں انگلیاں اور انگوٹھا ڈال کر کھول نہیں سکتا نہ بند کر سکتا تھا۔اس کے نتیجہ میں میں ناخن نہیں کاٹ سکتا تھا۔مگر اِس وقت کہ میں حال لکھوا رہا ہوں میں نے قینچی کے سوراخوں میں ہاتھ ڈالا ہوا ہے اِس کو کھول بھی رہا ہوں بند بھی کر رہا ہوں اور بعض دفعہ ناخن کاٹنے میں کامیاب بھی