انوارالعلوم (جلد 25) — Page 122
انوار العلوم جلد 25 122 احباب جماعت کے نام پیغامات اس میں کوئی شک نہیں کہ دو ڈاکٹر میرے ساتھ جارہے ہیں۔ لیکن ایک مزید ڈاکٹر کو ربوہ کے کام کے لئے میں نے خدمات وقف کرنے کے لئے آمادہ کیا ہے اور وہ اس وقت ربوہ میں کام کر رہا ہے۔ جو دو ڈاکٹر میں اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں ان میں سے ایک میرا بیٹا ہے جس کو میں نے اپنے خرچ سے پڑھوا کر احمد یہ جماعت کے لئے وقف کیا۔ جبکہ سینکڑوں دوسرے ڈاکٹر اس خرچ پر دو مہینہ کے لئے بھی آنے کو تیار نہیں تھے۔ اگر ان معترضین کے دل میں دیانت ہے تو آٹھ سال کے لئے نہیں صرف چھ چھ مہینے کے لئے اپنے رشتہ داروں کو خدمت جماعت کے لئے لے آئیں اور منور احمد سے دگنا گزارہ لے لیں۔ اب بھی میں اسے اپنے خرچ پر لے جا رہا ہوں تاکہ وہاں وہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں نئی دریافتیں سیکھ کر آئے اور ربوہ پہنچ کر جماعت کی خدمت کرے۔ پس اس کا لے جانا بھی آپ لوگوں پر احسان ہے کیونکہ اس کا خرچ میں خود دے رہا ہوں۔ اور اس کے علم کا فائدہ آپ کو پہنچے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے دنیا کے آخر میں جنت بھی قریب آجائے گی اور دوزخ بھی قریب آجائے گی۔ میں نے ساری عمر کوشش کی کہ قریب آئی ہوئی جنت میں تم داخل ہو جاؤ۔ اگر تم میں سے بعض پھر بھی دوزخ ہی میں گھسنے کی کوشش کریں تو میں تو حسرت بھرے دل سے انا للہ ہی پڑھ سکتا ہوں اور کیا کر سکتا ہوں۔ خدا تعالیٰ تمہاری آنکھیں کھولے اور ان دشمنوں کی بھی آنکھیں کھولے جو احمدیت پر جھوٹے اعتراض کرتے ہیں۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثاني 19/4/1955ء از کراچی" )الفضل 23 اپریل 1955ء(