انوارالعلوم (جلد 25) — Page 112
انوار العلوم جلد 25 112 احباب جماعت کے نام پیغامات پیدا ہو رہا ہے اور میں بعض اوقات محسوس کرتا ہوں کہ میں سوچ سکتا ہوں اور پچھلے واقعات کا تسلسل میرے دماغ میں شروع ہو جاتا ہے۔بلکہ کراچی آتی دفعہ ریل میں ایک سورۃ میرے دماغ میں آئی جس کے بعض حصے لوگوں سے اب تک حل نہیں ہو سکے تھے اور باوجو د بیماری کے اس سورۃ کی شرح اور بسط میں نے کرنی شروع کی اور وہ تفسیر عمدگی کے ساتھ حل ہونی شروع ہو گئی۔تب میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے خدا! ابھی دنیا تک تیرا قرآن صحیح طور پر نہیں پہنچا اور قرآن کے بغیر نہ اسلام ہے نہ مسلمانوں کی زندگی، تو مجھے پھر سے توفیق بخش کہ میں قرآن کے بقیہ حصہ کی تفسیر کر دوں اور دنیا پھر ایک لمبے عرصے کے لئے قرآن شریف سے واقف ہو جائے۔اور اس پر عامل ہو جائے اور اس کی عاشق ہو جائے۔بہر حال آج میری طبیعت پچھلے چند دن سے بہت اچھی معلوم ہوتی ہے۔کچھ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ سفر کی پریشانیاں جو پیدا ہو رہی تھیں وہ دُور ہو رہی ہیں۔پچھلے دنوں اختر صاحب اور مشتاق احمد صاحب باجوہ جو کام کے لئے جاتے تھے تو اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے یہ نہیں سمجھتے تھے کہ فورار پورٹ نہ پہنچی تو مجھے صدمہ ہو گا۔دو چار دن کے تجربہ کے بعد میں نے خود اس بات کو محسوس کر لیا اور انہیں ہدایت کر دی کہ جب وہ باہر جایا کریں تو ایک زائد آدمی لے کر جایا کریں اور اسے اُس وقت کی رپورٹ دے کر میرے پاس بھجوا دیا کریں تا کہ مجھے پتہ لگتار ہے۔جب سے اس پر عمل ہوا میری گھبراہٹ اور پریشانی دور ہونی شروع ہو گئی۔اور اب خدا تعالیٰ کے فضل۔طبیعت میں سکون ہے۔خدا نے یہ بھی فضل کیا کہ جہاز کے ٹکٹوں کے ملنے کے غیر معمولی سامان ہو گئے اور اپھینچ کے ملنے کے سامان بھی پیدا ہو گئے۔اس موقع پر اسلامی ملک کے بعض نمائندوں نے غیر معمولی شرافت کا ثبوت دیا۔اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر دے، اُن کے ملکوں کو عزت اور ترقی بخشے۔اس واقعہ سے طبیعت میں اور بھی زیادہ سکون پیدا ہوا اور پریشانی دور ہوئی۔خدا کرے کہ مسلمانوں میں پھر سے اتحاد پید اہو جائے اور پھر سے وہ گزشتہ عروج کو حاصل کرنے لگ جائیں اور اسلام کے نام میں وہی رعب پیدا ہو جائے جو آج سے ہزار بارہ سو سال پہلے تھا۔میں اُس دن کے دیکھنے کا متمنی ہوں اور ہر وقت