انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 109

انوار العلوم جلد 25 109 احباب جماعت کے نام پیغامات استغفار پڑھیں۔اور خواہ آپ عمر میں سب سے چھوٹے ہوں اور درجے میں سب سے چھوٹے ہوں اور خواہ آپ کے بزرگ اُس فتنہ انداز کی بات کی تائید کر رہے ہوں فوراً مجلس میں کھڑے ہو جائیں اور لاحول پڑھ کر کہہ دیں کہ ہم نے احمدیت کو خدا کے لئے اختیار کیا تھا، ہمارا آسمانی باپ خدا ہے اور ہمارے روحانی باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں۔جماعت میں فتنہ پھیلانے والی بات اگر ہمارے عزیز ترین وجو د سے بھی ظاہر ہوئی تو ہم اُس کا مقابلہ کریں گے۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کتنا بڑا منافق تھا۔قرآن کریم میں متعدد آیات اس کی منافقت کے لئے بیان کی گئی ہیں۔ایک جنگ میں جب اس نے بعض صحابہ کی کمزوری دیکھی اور کہا کہ مدینہ چل لو وہاں پہنچتے ہی جو مدینہ کا سب سے بڑا معزز آدمی ہے یعنی نعوذ باللہ عبد اللہ بن ابی بن سلول وہ مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔تو عبد اللہ بن ابی بن سلول کا بیٹا بھی اُس جگہ موجود تھا۔وہ دوڑ تا ہؤا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یارسول اللہ ! میں آپ کو بتاتا ہوں میرے باپ نے آج کیسی خباثت کی ہے۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں سمجھتا ہوں میرے باپ کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں۔اگر آپ یہ واجب فیصلہ کریں تو اس کے پورا کرنے کا مجھے حکم دیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی اور مسلمان ایسا کر بیٹھے تو میرے دل میں منافقت پیدا ہو۔اور اس کا بغض میرے دل میں پیدا ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہمارا ارادہ یہ نہیں ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو چونکہ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے یہ کہا تھا کہ مدینہ پہنچنے دو، مدینہ کا سب سے معزز آدمی یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کے لڑکے نے تلوار نکال لی اور مدینہ کے دروازے کے آگے کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا۔اے باپ !تُو نے یہ فقرہ کہا تھا۔خدا کی قسم ! میں وہ وقت ہی نہیں آنے دوں گا کہ تو اس بات کو پورا کرنے کا ارادہ کرے۔تُو