انوارالعلوم (جلد 25) — Page 106
انوار العلوم جلد 25 106 احباب جماعت کے نام پیغامات میں وہ آدمی نہیں پیدا ہو ا جو آپ کی نگرانی ایک باپ کی شکل میں کرے۔میر ادماغ بوجھ نہیں برداشت کر سکتا تھا مگر اُس وقت میں برابر یہ دعا کر تا رہا کہ اے میرے خدا! جو میرا حقیقی باپ اور آسمانی باپ ہے مجھے اپنے بچوں کی فکر نہیں کہ وہ یتیم رہ جائیں گے مجھے اس کی فکر ہے کہ وہ جماعت جو سینکڑوں سال کے بعد تیرے مامور نے بنائی تھی وہ یتیم رہ جائے گی۔اگر تو مجھے یہ تسلی دلا دے کہ ان کے ٹیتم کا میں انتظام کر دوں گا تو پھر میری یہ تکلیف کی گھڑیاں سہل ہو جائیں گی۔مگر تو مجھ سے یہ کس طرح امید کر سکتا ہے کہ یہ لاکھوں روحانی بچے جو تو نے مجھے دیئے ہیں، جن کے دشمن چپے چپے پر دنیا میں موجود ہیں اور جن کو ختم کرنے کے لئے ہر وقت شیطانی نیزے اٹھ رہے ہیں، جب میرے بعد ان نیزوں کو اپنی چھاتی پر کھانے والا کوئی نہیں رہے گا تو تو ہی بتا کہ میں اس بات کو کس طرح برداشت کرلوں۔مجھے موت کا ڈر نہیں مجھے ان لوگوں کے یتیم ہو جانے کا ڈر ہے جنہوں نے تیرے نام کو روشن کرنے کے لئے پچاس سال متواتر قربانیاں کیں۔ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، دنیا نے ان کو کمائی سے محروم کر دیا تھا پھر بھی وہ ہر اُس آواز پر آگے بڑھے جو تیرے نام کے روشن کرنے کے لئے میں نے اٹھائی تھی۔اب اے میرے وفادار آقا! میں تجھے تیری ہی وفاداری کی قسم دیتا ہوں ان کمزوروں نے اپنی کمزوریوں کے باوجو د تجھ سے وفاداری کی۔تو طاقتور ہوتے ہوئے ان سے بے وفائی نہ کیجو کہ یہ بات تیری شان کے شایاں نہیں اور تیری پاکیزہ صفات کے مطابق نہیں۔میں ان لوگوں کو تیری امانت میں دیتا ہوں۔اے سب امینوں سے بڑے امین ! اس امانت میں خیانت نہ کیجئو اور اس امانت کو پوری وفاداری کے ساتھ سنبھال کر رکھیو۔ڈاکٹر مجھے کہتے ہیں فکر مت کرو۔لیکن میں اس امانت کا فکر کس طرح نہ کروں جسے میں نے پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک اپنے سینہ میں چھپائے رکھا اور ہر عزیز ترین شے سے زیادہ عزیز سمجھا۔اے میرے عزیزو! تم سے کو تاہیاں بھی صادر ہوئیں، تم سے قصور بھی ہوئے مگر میں نے یہ دیکھا کہ ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ کی آواز پر تم نے لبیک کہا۔تم موت کی وادیوں میں سے گزر کر بھی خدا تعالیٰ کی طرف دوڑتے رہے ہو۔مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ