انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 105

انوار العلوم جلد 25 105 احباب جماعت کے نام پیغامات معدہ کی ہے لیکن تکلیف اور احساس کے لحاظ سے دونوں بیماریوں میں فرق نہیں۔اگر اس خیال سے بیماری کو دیکھا جائے کہ بیمار کیا محسوس کر رہا ہے تو پھر ویسی ہی یہ خطر ناک ہے جیسی وہ خطر ناک ہے۔چنانچہ ایک اور ڈاکٹر نے جب یہی بات کہی تو میں نے ان سے کہا کہ بتائیے میں فکر کس طرح نہ کروں جبکہ میرا دل محسوس کر رہا ہے کہ میری حالت خطرے میں ہے۔تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ جب تک آپ سے زیادہ دماغی طاقت والا ڈاکٹر آپ کو ماننے پر مجبور نہ کر دے آپ معذور ہیں میں کیا کہہ سکتا ہوں، آپ کو یہ یقین دلا دینا کہ اس وقت آپ خطرے سے باہر ہیں یہ کسی ایسے ڈاکٹر کے اختیار میں نہیں جو اپنی دماغی قوت کے لحاظ سے آپ سے زیادہ نہ ہو۔بہر حال اس مشورہ کے بعد بعض ربوہ کے ہمارے احمدی ڈاکٹر جو تھے انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ابھی نہیں جانا چاہیے ابھی سردی ہے اور یہ مرض سردی سے ہی متاثر ہوتی ہے۔میں نے اس پر سوئٹزر لینڈ اور اٹلی اور ہالینڈ اور انگلینڈ تاریں دیں جن کے جوابات بذریعہ تار آئے کہ ہم نے یہاں کے ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ کی بیماری کا علاج یہاں بڑی حد تک ہو سکتا ہے اور یہاں کا موسم ہرگز آپ کی بیماری کے خلاف نہیں۔آپ فوراً آجائیں یہاں ہر قسم کا انتظام ہسپتال وغیرہ کا موجود ہے۔یورپ کے ملکوں کے رہنے والے ڈاکٹروں کی ان تاروں سے ربوہ کے ڈاکٹروں کے منہ بند ہو گئے کیونکہ سردی میں تو وہ رہ رہے ہیں۔ربوہ والے تو نہیں رہ رہے۔ربوہ والے تو اپنے موسم پر قیاس کرتے ہیں۔پھر وہ لوگ ان بیماریوں کے ماہر بھی ہیں۔عزیزم شیخ ناصر احمد نے سوئٹزر لینڈ سے تار دی ہے کہ میں نے معین صورت میں یہاں کے ڈاکٹروں سے مشورہ کر لیا ہے اور وہ یہی کہتے ہیں کہ وہ یہاں آجائیں ہم علاج کر سکتے ہیں اور یہاں ہر قسم کی سہولتیں مہیا ہیں۔قریباً اسی مفہوم کی تار انگلینڈ سے بھی آئی ہے اس لئے میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ہر انسان جو پیدا ہوا ہے اُس نے مرنا ہے۔اُن گھڑیوں میں جب میں محسوس کرتا تھا کہ میر ادل ڈوبا کہ ڈوبا مجھے یہ غم نہیں تھا کہ میں اس دنیا کو چھوڑ رہا ہوں۔مجھے یہ غم تھا کہ میں آپ لوگوں کو چھوڑ رہا ہوں۔اور مجھے یہ نظر آرہا تھا کہ ابھی ہماری جماعت