انوارالعلوم (جلد 25) — Page 104
انوار العلوم جلد 25 104 احباب جماعت کے نام پیغامات پیغام مؤرخہ 1955ء3-21 " احباب جماعت ! السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کو یہ اطلاع ہو چکی ہے کہ ڈاکٹروں نے مجھے علاج کے لئے یورپ جانے کا مشورہ دیا ہے۔میرے پہلے اعلان سے ایک غلط فہمی ہوئی ہے۔پہلے اعلان میں یہ لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹروں نے مجھے اپنے خاندان سمیت جانے کا مشورہ دیا ہے۔اس پر ایک احمدی ڈاکٹر صاحب مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ مشورہ کے وقت میں موجود تھا انہوں نے خاندان کا لفظ نہیں بولا تھا صرف آپ کے لئے کہا تھا۔یہ بات اُن کی ٹھیک تھی۔اصل بات یہ ہے کہ ان کا مشورہ یہ تھا کہ میں علاج کے لئے یورپ جاؤں اور ہر قسم کے تفکرات سے بچنے کی کوشش کروں۔میں اپنی طبیعت کی بناء پر جانتا تھا کہ اس حالت میں میں اگر باہر گیا تو میری بیویوں اور بچوں کے دل میں شدید اضطراب ہو گا کہ نہ معلوم اتنی دور کیا واقعہ گزر جائے۔اور اپنی طبیعت کے لحاظ سے میں یہ بھی جانتا تھا کہ بیوی بچوں کے ان تفکرات کو میں برداشت نہیں کر سکوں گا اس لئے مشورہ کے آخری حصہ کی بناء پر میں یہی سمجھتا تھا کہ مجھے اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے جانا چاہیئے تاکہ سفر میں مجھے ان کی تکلیف لاحق نہ ہو۔چنانچہ اس کے بعد مجھے ایک اور ڈاکٹر ملے۔وہ احمدی تو نہیں ہیں لیکن بہت ہی محبت رکھتے ہیں، انہوں نے میری رائے سن کر اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ آپ میر ا نام لے کر بے شک ڈاکٹروں کو بتا دیں کہ اگر آپ ان کے بغیر گئے تو تفکرات بڑھ جائیں گے کم نہیں ہوں گے۔بہر حال میں کچھ انجمن اور تحریک کے عملہ کو ساتھ لے کر جو وہاں تعلیم کے لئے جا رہے ہیں یا مبلغ ہو کر جارہے ہیں اور اپنی بیویوں اور بعض بچوں کو لے کر جارہا ہوں۔میرے پہلے اعلان کے بعد مجھے پے در پے دل کی تکلیف کے حملے ہوئے جن میں سے بعض اتنے شدید تھے کہ بعض وقتوں میں میں سمجھتا تھا کہ میں ایک منٹ یا ڈیڑھ منٹ سے زیادہ کسی صورت میں زندہ نہیں رہ سکتا۔جب ڈاکٹروں کو بلا کے دکھایا گیا تو انہوں نے آلے لگا کر اور نبض دیکھ کر یہی رائے قائم کی کہ بیماری دل کی نہیں ہے بلکہ اعصاب اور