انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 85

انوار العلوم جلد 25 85 سیر روحانی (8) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک قہقہہ مارا۔اس نے کہا تم کیوں ہنسے ؟ وہ کہنے لگے کل میرے سامنے ایک آدمی بت بنا کے لایا تھا جو کل کا بنا ہوا ہے۔تم اتنے بڑے بڑھے اس کے آگے سجدہ کرو گے ؟ اُس نے جھٹ بُت پھینک دیا اور چل پڑا۔بھائیوں نے خوب گوٹا اور کہا کہ تم نے خواہ مخواہ ہمارا گاہک خراب کر دیا ہے۔تو ایک نیکی بھی اگر انسان کے اندر آجائے تو وہ اُس کو نمایاں کر کے لے جاتی ہے۔پس یہ سننے کی عادت اب چھوڑو۔کسی ایک چیز کو لے لو۔میں یہ نہیں کہتا کہ کیا لے لو کسی ایک چیز کو لو اور پھر اس میں تم مشہور ہو جاؤ۔جیسے بمبئی کے لوگ کہتے ہیں فلاں باٹلی والا ہے اسی طرح تمہارا ایک نام ہو جائے کہ فلاں بیچ والا ہے ، فلاں دیانت والا ہے، فلاں ہمدردی والا ہے۔بس تمہارا ایک نام پڑ جائے پھر دیکھو کہ لوگوں پر اس کا کیسا اثر ہوتا ہے اور خود تمہیں کتنی دلیری پیدا ہو جاتی ہے کہ چلو میں ہمدردی والا بن گیا، دیانت والا بھی بن جاؤں۔سچ والا بن گیا ہوں ، انصاف والا بھی بن جاؤں۔تو کوئی نہ کوئی چیز اپنے اندر پیدا کر لو تا کہ لوگوں کے لئے یہ نمونہ ہو جائے اور ہمارے اندر ایسی اخلاقی طاقت پیدا ہو جائے کہ دنیا پر ہماری اخلاقی برتری اور ہماری نیکی کی فوقیت ثابت ہو جائے۔پھر دعا کرو جیسا کہ میں نے کہا تھا اِس وقت سارے ہی اسلامی ممالک إِلَّا مَا شَاءَ اللہ بہت خطرے کی حالت میں ہیں۔کہیں اندرونی خطرے ہیں کہیں بیرونی خطرے ہیں، کہیں دباؤ ہیں کہیں لالچیں ہیں، کہیں حر میں ہیں، کہیں ڈراوا ہے، کہیں دھمکیاں ہیں۔تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اتنی مدت کی غلامی کے بعد اب اس نے جو مسلمانوں کو آزاد کیا ہے تو اب بخشنے پر آیا ہے تو پھر پوری ہی بخشش دے بجائے اس کے کہ ادھوری چیز دے۔خصوصاً پاکستان کی طاقت اور آزادی کے لئے دعا کرو اور اپنی وفا کا کامل نمونہ دکھاؤ تا تمہاری وفا کو دیکھ کر دوسرے بھی باوفا ہو جائیں۔پھر سب سے بڑا غلام اور سب سے زیادہ مصیبت زدہ تو اسلام ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ وہ اس غلام کو بھی آزادی بخشے اور اس کی بھی وہی عزت قائم کر دے جو پہلے زمانہ میں تھی۔یہ جو شاہی تخت کا مستحق تھا آج وہ آفتابہ اٹھائے ہوئے امیروں