انوارالعلوم (جلد 25) — Page 82
انوار العلوم جلد 25 82 سیر روحانی (8) وَعْدُ الْآخِرَةِ کے متعلق ایک اعتراض کا جواب اس جگہ پر ایک اعتراض کیا جا سکتا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ یہاں وعد الأخرق فرمایا ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ وَعْدُ الْآخِرَةِ سے مراد آخری زمانہ ہے مگر سورۃ بنی اسرائیل کی وہ پہلی آیتیں جو تم نے پڑھی تھیں وہاں بھی تو ایک وَعْدُ الْآخِرَةِ کا ذکر ہے جس میں رومیوں کے حملہ کا ذکر ہے تو کیوں نہ یہ سمجھا جائے کہ یہ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیفا رومیوں کے حملہ کے متعلق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہ وَعْدُ الآخِرَةِ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اس صورت میں وَعْدُ الْآخِرَةِ کو عذاب کا قائم مقام قرار دیا ہے اور اس صورت میں وَعُدُ الْآخِرَةِ کو انعام کا قائم مقام قرار دیا ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ عذاب کی پیشگوئی کو انعام سمجھ لیا جائے۔اُس جگہ تو فرمایا ہے کہ جب آخرت کا وہ وعدہ آئیگا تو تم کو تباہ کر دیا جائے گا اور اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو پھر تم کو اس ملک میں لا کر بسا دیا جائے گا۔اِس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ وَعْدُ الْآخِرَةِ اَور ہے اور وہ وَعْدُ الْآخِرَةِ اَور ہے۔وہاں وَعْدُ الْآخِرَةِ سے مراد ہے موسوی سلسلہ کی پیشگوئی کی آخری کڑی۔اور یہاں وعد الأخرق سے مراد ہے آخری زمانہ یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی پیشگوئی۔پس یہ الفاظ کو ملتے ہیں لیکن دونوں کی عبارت صاف بتارہی ہے کہ یہ اور وعدہ ہے اور وہ اور وعدہ ہے۔وہ وعدہ عذاب کا ہے اور یہ وعدہ انعام کا ہے اور انعام کا قائم مقام عذاب کا وعدہ نہیں ہو سکتا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ " تمہاری موت آئیگی" اور دوسری دفعہ کہے " تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہو گا" تو اب کوئی شخص یہ کہے کہ "تمہاری موت آئیگی" کے یہی معنے ہیں کہ "بیٹا پیدا ہو گا تو یہ حماقت کی بات ہو گی کیونکہ اس میں انعام کا وعدہ کیا ہے اور وہاں عذاب کا وعدہ ہے۔" ( الناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ۔مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ) "" "اب میں دعا کر کے جلسہ کو ختم کروں گا۔کچھ تاریں ہیں، وہ میں دعا سے پہلے سنا دیتا ہوں۔"