انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 73

انوار العلوم جلد 25 73 سیر روحانی (8) نہیں بتاتی کہ یہ کب سے بنا ہے؟ اتنی پرانی جاگیر تو دنیا میں الگ رہی اس کا سواں حصہ بھی پر انی جاگیر دنیا میں کوئی نہیں جو محفوظ ہو۔ساری کی ساری جائدادیں ضبط کر لی گئیں، تباہ ہو گئیں مگر یہ جاگیر اُسی طرح کھڑی ہے۔ایک اور روحانی جاگیر جو خدا تعالیٰ پھر اسی دفتر سے ایک جاگیر جاری ہوئی۔فرماتا ہے وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ کے نیک بندوں کو دی گئی مِنْ بَعْدِ البِاثْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِيُّهَا عِبَادِيَ الصّلِحُونَ۔28 ہم نے زبور میں اپنا کلام اور اپنی حکمتیں اور اپنی نصائح لکھنے کے بعد یہ لکھا کہ فلسطین کی زمین کے ہمیشہ میرے نیک بندے وارث ہوتے رہیں گے۔یہ کتنا شاندار وعدہ تھا اور کس شان سے پورا ہوا۔اس وعدے کی تفصیل یہ ہے سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَوْلَهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِللَ الرِّيَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا - ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَ آمد دلكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا - 29 پھر تھوڑی دیر کے بعد فرماتا ہے فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوا وُجُوهَكُمْ وَ لِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيَتَبِرُوا مَا عَلَوْا تَثْبِيرًا عَسَى رَبِّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ وَإِن عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ حَصِيرًا - 30 ارض مقدس کے متعلق فرمایا ہم نے ایک اور بھی جاگیر دی تھی اور اس کے ساتھ کچھ شرطیں لگائی تھیں اور وہ یہ کہ بعض شرائط اور قیود کا ذکر فلسطین خدا کے نیک بندوں کو ملے گا۔چونکہ پہلے یہود کو اِس کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، اس لئے ان کو یہ جاگیر ملے گی لیکن یہ شرطیں ہیں کہ :- 1- کچھ عرصہ کے بعد ہم یہ جاگیر تم سے چھین لیں گے۔فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَولَهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ ہم اپنے حکم کے ساتھ ایک قوم کو مقرر کریں گے جو بڑی فوجی طاقت رکھتی ہوگی۔فَجَاسُوا خِلل وہ فلسطین کے تمام شہروں میں گھس ج