انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 67

انوار العلوم جلد 25 67 سیر روحانی (8) اُن کے ساتھ بتا دیا جاتا تھا کہ یہ کتنے عرصہ کے لئے جاگیر ہے، کسی کو کہا جاتا تھا کہ یہ ہمیشہ کے لئے ہے، کسی کو کہا جاتا تھا کہ یہ ہمیشہ کیلئے ہے پر یہ یہ وقفے پڑ جائیں گے، کسی کو کہا جاتا تھا کہ عارضی ہے جب تک ٹھیک رہو گے ملے گی۔گویا یہ خدمت کی جاگیر ہے جب تک خدمت کروگے ملے گی جب خدمت نہ کرو گے چھین لی جائے گی۔روحانی جاگیر داروں کے چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس میں جاگیر داروں کے متعلق یہ قانون تھا کہ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ متعلق عالم روحانی کا قانون عَبِدُوا الظَّلِحَتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ 24 ہم جو جاگیر دیگے اگر تو وہ شخص جس کو جاگیر دی گئی ہو گی اپنی زندگی بھر وفاداری کو قائم رکھے گا تو وہ جاگیر ابد الآباد تک اُس کے نام لکھی جائیگی اور اس سے چھینی نہیں جائیگی۔مسلمانوں کو خدا تعالیٰ کی یہ تو اخروی انعام ہے۔اس دنیا کے انعام میں بھی میں نے یہی قانون دیکھا۔اُخروی انعام عطا کردہ ایک مقدس جاگیر کے متعلق تو مجھے غیر مسلم لوگ کہیں گے کہ میاں! یہ تو منہ کی باتیں ہیں اگلا جہان کس نے دیکھا ہے۔تم یہ بتاؤ اور اس بات کا ثبوت دو کہ یہاں بھی مل جاتی ہے ؟ تم اپنے دربار کی یہاں کوئی ایسی جائداد بتاؤ جو مستقل طور پر مل گئی ہو اور پھر کسی نے چھینی نہ ہو۔تو میں نے دیکھا کہ اس بارہ میں قرآن کریم سے یہ ثبوت نکلا کہ اِن اَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَةَ مُبْرَكًا وَهُدًى لِلْعَلَمِينَ فِيْهِ ايْنَ بَيِّنْتُ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِيْنَ _ 25 اس جاگیر کے ساتھ تعلق فرماتا ہے ایک جاگیر ہم نے دنیا کے کچھ لوگوں کو بخشی اور ہم نے کہا ہمارے نام پر۔رکھنے والی سات اور جاگیریں ایک گھر جو اس کے ساتھ ہم تم کو جاگیر دینگے۔تو سب سے پہلے جو گھر خدا تعالیٰ کے نام پر لوگوں کے فائدہ کے لئے بنایا گیا وہ مکہ میں بنا۔