انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 62

انوار العلوم جلد 25 62 سیر روحانی (8) کریگا تو ایک وقت ایک مجرم کو نکالا جائے گا۔اُس کے بڑے مجرم ہونگے مگر اُس کے دل میں کوئی ایسی نیکی ہو گی کہ جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کہے گا کہ میں نے اس کو ضرور بخشنا ہے۔چنانچہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا وہ ڈر رہا ہو گا کہ مجھے سزا ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنے دل میں فیصلہ کر چکا ہو گا کہ اس کی فلاں نیکی کی وجہ سے میں نے اسے بخشا ہے۔مثلاً ممکن ہے اُس کے دل میں محبتِ رسول بڑی ہو یا اللہ تعالیٰ کی بڑی محبت ہو لیکن اعمال میں کمزور ہو۔یا غریبوں کی اُس نے بڑی خبر گیری کی ہو یا اور کوئی ایسی نیکی ہو جو اتنی نمایاں ہو گئی ہو کہ اللہ تعالیٰ سمجھتا ہو چاہے اس نے کتنے گناہ کئے ہوں میں نے اس کو بخش دینا ہے۔تو جب وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا اللہ تعالیٰ کہے گا دیکھو میاں !تم نے فلاں بدی کی۔وہ کہے گا ہاں حضور مجھ سے ایسا ہو گیا۔فرمائے گا اچھا فرشتو! اس کے بدلہ میں اس کے دس ثواب لکھ دو۔پھر پوچھے گا تم نے فلاں بدی کی تھی؟ وہ کہے گا جی حضور کی تھی۔فرمائے گا اچھا اس کے دس ثواب لکھ دو۔تو چونکہ اُس کے لئے بخشش کسی ایسی نیکی کی وجہ سے جو اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی مقدر تھی خدا تعالیٰ اُس کے گناہ گنانے شروع کر دیگا اور فرمائے گا کہ ان کے بدلہ میں نیکیاں لکھتے چلے جاؤ۔لیکن اس کے بڑے بڑے گناہ نہیں گنائے گا تا کہ وہ شرمندہ نہ ہو۔جب اللہ تعالیٰ ختم کر بیٹھے گا تو وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ میرے فلاں فلاں گناہ بھی موجود تھے اگر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی دس دس نیکیاں ملی ہیں تو ان کی تو سو سو ملنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ تو اس کی پردہ پوشی کے لئے ایسا کر یگا لیکن جب وہ خاموش ہو گا تو بندہ کہے گا حضور ! آپ تو بھول ہی گئے میں نے فلاں گناہ بھی کیا تھا اور فلاں میں نے قتل کیا تھا اُس کو تو آپ نے بیان ہی نہیں کیا۔اسی طرح فلاں ڈا کہ آپ نے بیان نہیں کیا یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہنس پڑے گا کہ دیکھو میر ابندہ میرے عفو پر اتنا دلیر ہو گیا ہے کہ اب یہ اپنے گناہ آپ گناتا ہے 21 تو یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنت اس کے معنے اسی طرز کے ہیں کہ کوئی نہ کوئی نیکی اس کے دل میں ہوتی ہے اور وہ اتنے مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ اس نیکی کے مقام کی وجہ سے بدی کو نیکی کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔یہی اس کے معنے ہیں۔اور اصل مقصود رویہ