انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 31

انوار العلوم جلد 25 31 سیر روحانی (8) گورنر بمبئی کو بھیجی۔شاید آوروں کو بھی بھیجی ہو گی بہر حال ان کے ایک افسر نے مجھے اس کی نقل بھجوائی کہ چونکہ اس سے آپ کی بریت ہوتی ہے میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں۔سفر انگلستان سے واپسی پر جہاز اب میں نے سوچا کہ کیا واقعہ ہے تو مجھے یاد کے چیف انجینئر سے ملاقات آیا کہ جب ہم جہاز سے واپس آرہے تھے تو جہاز کا جو چیف انجینئر تھا اُس کی طرف سے مجھے پیغام ملا کہ میں آپ کو جہاز کا انجن وغیرہ دکھانا چاہتا ہوں اور یہ کہ جہاز کس طرح چلائے جاتے ہیں؟ ( بڑے بڑے جہازوں کے جو انجینئر ہوتے ہیں وہ بڑے رینک کے ہوتے ہیں بلکہ اُن کے کپتان بھی کرنیل رینک کے ہوتے ہیں۔یہ پیغام جو مجھے ملا جہاز کے چیف انجینئر کی طرف سے تھا) میں نے اُس کو کہلا بھیجا کہ میں تو ایک مذہبی آدمی ہوں، میرا ان باتوں سے کیا واسطہ ہے ؟ میں نے سمجھا کہ شاید یہ مجھے کوئی راجہ مہاراجہ سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ کبھی میرے کام آئیں گے تو خواہ مخواہ جو یہ تکلیف اُٹھا ئیگا تو اس کا کیا فائدہ ہو گا بعد میں اس کو مایوسی ہو گی پس میں کیوں اس کو مایوس کروں۔چنانچہ میں نے کہا میں تو ایک فقیر آدمی ہوں، مذہبی امام ہوں مجھے ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے آپ کیوں تکلیف اُٹھاتے ہیں؟ اُس نے پھر یہی کہا کہ ٹھیک ہے آپ مذہبی آدمی ہیں لیکن میری یہ خواہش ہے آپ مجھے ممنون کریں اور ضرور جہاز دیکھیں۔چنانچہ میں گیا۔اُس نے بڑا انتظام کیا ہوا تھا اور سارے انجینئر جو اُس کے ماتحت تھے اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے تھے۔ایک ایک پرزہ اُس نے دکھایا اور بتایا کہ یوں جہاز چلتا ہے، اِس اِس طرح پاور پیدا ہوتی ہے اور اِس طرح وہ اُسے آگے کھینچتی ہے۔غرض سارا جہاز اُس نے دکھایا۔خیر ہم نے جہاز دیکھ لیا۔میرے ساتھ بعض اور ساتھی بھی تھے جب ہم باہر نکلے تو میرے ساتھیوں میں سے ایک دوست نے مجھے کہا کہ انجینئر صاحب نے الگ ہو کر مجھے کہا ہے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ پرائیویٹ طور پر میرے کمرہ میں چل کر ذرا دو پیالی چائے میرے ساتھ پی لیں۔میں نے پھر انکار کیا اور کہا ان کا میرے ساتھ تعلق ہے خواہ مخواہ کیوں ان کی مہمانی قبول کروں؟ مگر انہوں نے کہا بہت اصرار ذية