انوارالعلوم (جلد 25) — Page 30
انوار العلوم جلد 25 30 سیر روحانی (8) بلکہ ہر واقعہ کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں اور ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ بات یوں ہوئی ہے۔ایک سابق گورنر پنجاب کا وائسرائے کے نام خط اسی طرح میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔جب میں 1924ء میں انگلستان گیا تو وہاں سے واپسی پر بمبئی گورنمنٹ کے ایک افسر نے ایک چٹھی کی نقل مجھے بھیجی۔وہ چٹھی گورنر پنجاب کی تھی اور تھی وائسرائے کے نام۔اُس کو مختلف صوبوں میں سرکلیٹ (CIRCULATE) کیا گیا تھا کیونکہ بڑے بڑے اہم معاملات کو سرکلیٹ کیا جاتا ہے۔وہ چٹھی اُس نے میرے پاس بھیجی کہ یہ آپ کی دلچسپی کا موجب ہو گی اسے آپ بھی پڑھ لیں۔اس چٹھی کو میں نے پڑھا تو حیران رہ گیا۔اُس چٹھی میں گورنر پنجاب سر میلکم ہیلی ( جو بعد میں لارڈ بن گئے) وائسرائے کو لکھ رہے تھے کہ مجھے آپ کی طرف سے چٹھی پہنچی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ امام جماعت احمد یہ جو انگلینڈ گئے تھے تو وہاں اُن کے تعلقات سوویٹ یونین کے بڑے بڑے افسروں سے تھے اور وہ اُن سے مل کر مشورے کرتے تھے اس لئے اُن کی نگرانی کی جائے اور دیکھا جائے کہ اُن کو سوویٹ یونین کے لوگوں سے کیا دلچسپی ہے اور سوویٹ یونین کا اُن کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اگر میں امام جماعت احمدیہ کا ذاتی واقف نہ ہو تا تو انگلستان کی سی آئی ڈی کی رپورٹ پر میں یقیناً اعتبار کرتا اور میں اس کو بڑی اہمیت دیتا لیکن میں ان کا ذاتی طور پر واقف ہوں وہ ایک مذہبی آدمی ہیں اور امن پسند آدمی ہیں۔وہ سوویٹ یونین یا اس کے منصوبوں کے ساتھ دُور کا بھی تعلق نہیں رکھتے اس لئے اپنے ذاتی علم کی بناء پر میں آپ کو لکھتا ہوں کہ اس میں کسی کارروائی کی ضرورت نہیں۔یہ غلط رپورٹ ہے اور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔آگے انہوں نے خود لکھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو بغیر علم کے بعض سوویٹ یونین کے بڑے بڑے آدمی ملے ہیں۔ہمارے آدمیوں کو چونکہ پتہ تھا کہ وہ سوویٹ یونین کے آدمی ہیں اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بات ہو گی اور ان کو پتہ نہیں تھا۔ان کو ملنے والے آکر ملے تو انہوں نے ملاقات کر لی اور اس لئے کہ باقی لوگ بھی غلطی میں مبتلاء نہ رہیں وائسرائے نے وہ چٹھی