انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 492

انوار العلوم جلد 25 492 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات نے الزام لگایا کہ انہیں بعل بُت سکھاتا ہے۔اس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میں تو بعل بت کے خلاف تعلیم دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ایک خدا کی پرستش کرو پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ بعل مجھے سکھاتا ہے اور میری تائید کرتا ہے۔اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کتنا بڑا نشان ہے کہ آپ کی زندگی میں تو مخالف کہتے رہے کہ آپ تعیسائیت کے ایجنٹ ہیں لیکن آپ کی وفات کے بعد آپ کے ماننے والی غریب جماعت کو اس نے یہ توفیق دی کہ وہ عیسائیت کو شکست دے۔اُس نے چندے دیئے اور تبلیغ کا جال پھیلا دیا گیا۔اگر وہ چندے نہ دیتے اور ہمارے مبلغ دنیا کے مختلف ممالک میں نہ جاتے تو یہ لوگ جو احمدیت میں داخل ہوئے ہیں کہاں سے آتے اور عیسائیت کا ناطقہ کیسے بند ہوتا۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے انہی چندوں کی وجہ سے یہ حالت ہو گئی کہ اب عیسائیوں کو ایک ملک کے متعلق یہ کہنا پڑا ہے کہ یہ خوش کن امید کہ یہ ملک عیسائی ہو جائیگا پوری نہیں ہو سکتی۔اب غالباً اسلام جیتے گا اور عیسائیت شکست کھائے گی کیونکہ اب عیسائیت کی جگہ اس ملک میں اسلام ترقی کر رہا ہے۔احمدی جماعت کی طرف سے سکول جاری ہو رہے ہیں، کالج قائم کئے جارہے ہیں، مساجد تعمیر ہو رہی ہیں چنانچہ گولڈ کوسٹ کے علاقہ میں کماسی مقام پر ہمارا سیکنڈری سکول قائم ہے۔کہتے تو اسے کالج ہیں لیکن وہاں صرف ایف اے تک تعلیم دی جاتی ہے۔کئی کئی میل سے لوگ اپنے بچے اس کالج میں بھیجتے ہیں۔ان لوگوں کو دین پڑھنے کا اتنا شوق ہے کہ پچھلے سال ایک لڑکا یہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آیا۔اس کے متعلق وہاں کے مبلغ نے لکھا کہ اس کی والدہ میرے پاس آئی اور اس نے مجھے دو سو پونڈ کی رقم دی اور کہا میرے اس بچے کو ربوہ بھیجنے کا انتظام کریں تاکہ یہ وہاں تعلیم حاصل کرے۔مبلغ نے کہا بی بی اتو بیوہ عورت ہے اتنا بوجھ کیوں اٹھاتی ہے ، یہ رقم تیرے کام آئے گی۔شاید تو خیال کرتی ہو کہ ربوہ میں تیر الڑکا بی اے یا ایم اے ہو جائے گا وہاں تو لوگ دینیات پڑھاتے ہیں۔اس پر وہ عورت کہنے لگی میں تو اپنے لڑکے کو ربوہ بھیجتی ہی اس لئے ہوں کہ وہ وہاں جاکر دین کی تعلیم