انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 487

487 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات انوار العلوم جلد 25 بہت زیادہ کمزوری محسوس کر رہا ہوں لیکن چونکہ احباب باہر سے تشریف لائے ہوئے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ یہاں آکر جو کچھ بھی کہہ سکوں بیان کر دوں۔میں نے کل اپنی تقریر میں کہا تھا کہ آپ کا نام انصار اللہ ہے یعنی نہ صرف آپ انصار ہیں بلکہ آپ انصار اللہ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے مدد گار۔اللہ تعالیٰ کو تو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں لیکن اس کی نسبت کی وضاحت سے یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ہمیشہ اس عہد پر قائم رہیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اس پر موت نہیں آتی اس لئے آپ کے عہد پر کبھی موت نہیں آنی چاہیے۔چونکہ موت سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا اس لئے انصار اللہ کے معنے یہ ہوں گے کہ جب تک آپ زندہ رہیں گے اس عہد پر قائم رہیں گے اور اگر آپ مر گئے تو آپ کی اولاد اس عہد کو قائم رکھے گی۔یہی وجہ ہے کہ اس عہد میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ " میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کو اس بات کی توفیق دے دے تو پھر کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں یہ توفیق مل جائے کہ ہم عیسائیوں سے بھی زیادہ عرصہ تک خلافت کو قائم رکھ سکیں۔خلافت کو زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم سلسلہ ایسی مضبوط رہے کہ تبلیغ احمدیت اور تبلیغ اسلام دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہوتی رہے جو بغیر خلافت کے نہیں ہو سکتی۔کیونکہ کوئی ایک آدمی اس بات کی توفیق نہیں رکھتا کہ وہ ہالینڈ ، انگلینڈ ، جرمنی، سپین، فرانس، سکنڈے نیویا، سوئٹزر لینڈ اور دوسرے ممالک میں مشنری بھیج سکے۔یہ کام تبھی ہو سکتا ہے جب ایک تنظیم ہو اور کوئی ایسا شخص ہو جس کے ہاتھ پر ساری جماعت جمع ہو اور وہ آنہ آنہ، دو دو آنہ، چار چار آنه، روپیہ دو روپیہ ، جماعت کے ہر فرد سے وصول کرتا رہے۔اور اس دو دوآنہ ، چار چار آنہ اور روپیہ، دو دو روپیہ سے اتنی رقم جمع ہو جائے کہ ساری دنیا میں تبلیغ ہو سکے۔دیکھو عیسائیوں کی تعداد ہم سے زیادہ ہے۔وہ اس وقت ساٹھ کروڑ کے قریب ہیں۔پوپ جو عیسائی خلیفہ ہے اُس نے اس وقت یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ ہر عیسائی سال میں ایک ایک آنہ بطور چندہ دیتا ہے اور اس کو عیسائی پوپ کا آنہ (Pope's Penny) کہتے ہیں اور