انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 477

انوار العلوم جلد 25 477 مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے دوسرے سالانہ اجتماع میں خطابات نے اسلام کی وہ خدمت نہیں کی جو اس غریب جماعت نے کی ہے اور یہ چیز ہر جگہ نظر آتی ہے۔یورپ والے بھی اسے مانتے ہیں اور ہمارے مبلغوں کا بڑا اعزاز کرتے ہیں اور انہیں اپنی دعوتوں اور دوسری تقریبوں میں بلاتے ہیں۔اسرائیلیوں کو ہم سے شدید مخالفت ہے مگر پچھلے دنوں جب ہمارا مبلغ واپس آیا تو اسے وہاں کے صدر کی چٹھی ملی کہ جب آپ واپس جائیں تو مجھے مل کر جائیں۔اور جب وہ اسے ملنے کے لئے گئے تو ان کا بڑا اعزاز کیا گیا اور اس موقع پر ان کے فوٹو لیے گئے اور پھر ان فوٹوؤں کو حکومت اسرائیل نے تمام مسلمان ممالک میں چھپوایا۔انہوں نے ان فوٹوؤں کو مصر میں بھی چھپوایا، عرب ممالک میں بھی چھپوایا ، افریقہ میں بھی چھپوایا اور ہندوستان میں بھی ان کی اشاعت کی۔جب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب شام گئے تو وہاں کے صدر نے انہیں کہا کہ کیا آپ کی اسرائیل سے صلح ہو گئی ہے ؟ انہوں نے اسے بتایا کہ ہماری اسرائیل سے کوئی صلح نہیں ہوئی بلکہ ہم اس کے شدید مخالف ہیں۔غرض وہ اسرائیل جو عرب ممالک سے صلح نہیں کرتا اُس نے دیکھا کہ احمدیوں کی طاقت ہے اس لئے ان سے صلح رکھنی ہمارے لئے مفید ہو گی۔وہ سمجھتا ہے کہ ان لوگوں سے خواہ مخواہ ٹکر نہیں لینی چاہیے۔گو اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی کیونکہ احمدی اسرائیل کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ میں خنجر سمجھتے ہیں۔کیونکہ اسرائیل مدینہ کے بہت قریب ہے۔وہ اگر ہمارے مبلغ کو اپنے ملک کا بادشاہ بھی بنا لیں تب بھی ہماری دلی خواہش یہی ہوگی کہ ہمارا بس چلے تو اسرئیل کو سمندر میں ڈبو دیں اور فلسطین کو ان سے پاک کر کے مسلمانوں کے حوالہ کر دیں۔بہر حال ان کی یہ خواہش تو کبھی پوری نہیں ہوگی لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جماعت اگرچہ چھوٹی ہے لیکن متحد ہونے کی وجہ سے اسے ایک طاقت حاصل ہے۔اس طاقت سے نہیں خواہ مخواہ فکر نہیں لینی چاہیے۔چنانچہ وہ ہم سے ڈرتے ہیں۔پاکستان میں ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی کوئی طاقت نہیں، انہیں اقلیت قرار دے دینا چاہیے حالانکہ یہاں ہماری تعد اد لاکھوں کی ہے لیکن اسرائیل میں ہماری تعداد چند سو کی ہے۔پھر بھی وہ چاہتے ہیں کہ ہماری دلجوئی کی جائے اور یہ محض خلافت کی ہی برکت۔