انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 362

انوار العلوم جلد 25 362 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات خلافت اور نبوت کے جھگڑے کی وجہ سے ہی احمدی ہوئے تھے ، تازہ تازہ جوش تھا، آنکھیں کھلی رکھتے تھے مولوی عبد السلام بھی مولوی محمد علی سے ملے اور میاں منان عید کے دن اُن کی گود میں بیٹھے اور اُن سے نذرانہ وصول کیا۔مولوی عمر دین شملوی نے جب مولوی عبد السلام کو طعنہ دیا کہ آپ کا بھائی نذرانہ لے کر آیا ہے اور آپ ملاقات کر کے آئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ آپ کو ہمارے ذاتی تعلقات میں دخل دینے کا کیا حق ہے؟ یعنی جو لوگ اس ناخلف اولاد کے باپ کی مخالفت کرتے تھے اور اس کو مرتد اور ظالم قرار دیتے تھے اُن سے دوستی اور محبت رکھنے پر کیوں اعتراض کیا۔آخر میں آپ نے مصری صاحب کو اپنی براءت میں پیش کیا ہے۔مصری صاحب تو خود پیغامیوں میں بیٹھے ہیں میں اُن کی گواہی کس طرح مان سکتا ہوں۔نہ میں نے اُن کو کمیشن مقرر کیا اور نہ اُن کے بری کرنے سے آپ بری ہو جاتے ہیں۔یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ اُس وقت آپ کی غلط فہمی دور ہو گئی تھی یہ بھی جھوٹ ہے۔میری غلط فہمی کبھی دور نہیں ہوئی۔میں آپ کو اس عرصہ میں ایمان کا کمزور ہی سمجھتارہا ہوں۔اس معاملہ کا دوبارہ ذکر نہ کرنا میری حیاء کی علامت ہے آپ کے ایمان کی علامت نہیں۔میں نے تو عبد المنان ، عبد الوہاب اور عبد السلام کی باتوں کا بھی دوبارہ ذکر نہیں کیا۔نہ اتاں جی کی باتوں کا دوبارہ ذکر کیا۔چنانچہ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے پچھلے دنوں مجھ سے کہا(غالباً شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور نے) کہ آپ 25 سال سے ان لو گوں کو معاف کرتے آئے ہیں، اب بھی خاموشی اختیار کر لیں۔تو میں نے کہا یہ جو کچھ ہو رہا ہے 25 سال کی معافی کا تو نتیجہ ہے، اگر میں آج سے 25 سال پہلے ان لوگوں کی شرارتوں کو ظاہر کر دیتا تو آج یہ جماعت سے الگ ہو چکے ہوتے اور پیغامیوں کی گود میں بیٹھے ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے تو ایسے گواہ بھی بھجوائے ہیں جو اپنے اپنے علاقہ میں راستباز اور ثقہ مانے جاتے ہیں اور جو بتاتے ہیں کہ ہم سے خود مولوی حبیب الرحمن احراری کے باپ نے شملہ میں ذکر کیا کہ مولوی عبد الوہاب ہمارے ایجنٹ ہیں اور ہم نے ان کو مرزائیوں کی خبریں لانے پر مقرر کیا ہوا ہے وہ چودھری افضل حق پریذیڈنٹ جماعت احرار سے بھی لمبی لمبی ملاقاتیں کرتے ہیں۔