انوارالعلوم (جلد 25) — Page 361
انوار العلوم جلد 25 361 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات اس لئے وہ بچ جائیں گے جس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کو علم تھا کہ میاں بشیر ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ورنہ ان کے متعلق بشارتوں کے الہام ہی کیوں بھیجتا۔مگر آپ عالم الغیب نہیں۔آپ منان کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں وہ اپنے علم کی بناء پر کہتے ہیں اور اپنے علم اور خدا کے علم کو برابر قرار دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ ان کا علم بھی خدا تعالیٰ کے علم کے برابر نہیں۔پس خدا تعالیٰ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو بھی اپنے علم کے مقابلہ میں کم قرار دیتا ہے مگر آپ اپنے علم کو خدا تعالیٰ کے علم کے برابر سمجھتے ہیں اور یہ دہریت کی علامت ہے۔اگر یہ حالت جاری رہی تو آپ ایک دن دہریت پر پہنچ کر رہیں گے۔میں آپ کو جانتا ہوں لیکن باوجود اس کے میں آپ کی باتوں کو تسلیم نہیں کر سکتا۔کیونکہ آپ نے اُس شخص کا نام نہیں لکھا جس نے آپ کو یہ کہا تھا کہ پیپل کے نیچے کھڑے ہونے والے آدمیوں میں سے ایک آپ تھے جب تک آپ اس شخص کا نام نہ بتائیں اور میں اُس سے پوچھ نہ لوں میں آپ کو کذاب سمجھتا ہوں۔قرآن کریم فرماتا ہے إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا 21 یہ ٹھیک ہے کہ یہ 27، 28 سال کا پر انا واقعہ ہے مگر آپ کا حافظہ مجھ سے زیادہ کمزور ہے۔آپ نے لکھا ہے کہ عبد الوہاب اس میں شامل نہیں تھے لیکن میرے پاس خود میاں زاہد سے سننے والے ایک شخص کی شہادت موجود ہے کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ عبد الوہاب ہماری سازش میں شامل تھا۔مگر وہ اس لئے بچ گیا کہ وہ خلیفہ اول کا بیٹا تھا اور ہم غریب مارے گئے۔ایک شہادت میرے پاس آچکی ہے اور ایک دوسری شہادت کے متعلق خبر ہے کہ وہ بھی انشاء اللہ آجائے گی۔آپ تو یہ سمجھتے تھے کہ آپ کا اور وہاب کا خط میاں زاہد کے پاس گیا ہے لیکن وہ خدا تعالیٰ نے میرے پاس پہنچا دیا تھا۔میاں زاہد نے اُس پر جو جواب لکھا تھا وہ خط لے جانے والے نے مجھے دے دیا تھا۔خد اتعالیٰ نے وہ گواہ بھی مہیا کر دیئے ہیں جنہوں نے یہ گواہی دی ہے کہ 1915ء میں یا اس کے قریب میاں عبد السلام اور میاں عبد المنان شملہ آئے۔چونکہ ہم لوگ