انوارالعلوم (جلد 25) — Page 342
انوار العلوم جلد 25 342 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات نواب شاہ سندھ جو میاں عبد السلام صاحب مرحوم کے ساتھ زمین کے ٹھیکہ میں شریک رہے ہیں لکھتے ہیں کہ 1954ء میں جو قافلہ قادیان گیا میں بھی اس میں شامل ہونے کے لئے لاہور آیا۔وہاں صبح کی نماز کے بعد جس میں میاں عبد الوہاب شریک نہیں ہوئے وہ مختلف جگہوں سے آئے ہوئے لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے اس طرح بولے جیسے درس دیتے ہیں اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لئے دنیا ملنے کی دعا کی تھی جس سے سکون قلب حاصل نہیں ہو تا لیکن حضرت خلیفہ اول نے اپنی اولاد کو خدا کے سپرد کیا ( لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک الہامی دعا ہے جو وفات کے قریب ہوئی جس میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا سپردم بتو ماید خویش را تو دانی حساب کم و بیش را 14 یعنی اے خدا! میں اپنی ساری پونچی تیرے سپر د کر تا ہوں تو آگے اس میں کمی بیشی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے متعلق کہیں ثابت نہیں کہ انہوں نے اپنی اولاد کو خدا کے سپر د کیا تھا ان کی وصیت میں تو یہ لکھا ہے کہ میری اولاد کی تعلیم کا انتظام جماعت کرے اور میری لائبریری بیچ کر ان کا خرچ پورا کیا جائے۔اس کے مقابل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد پر ایک پیسہ خرچ کرنے کی جماعت کو نصیحت نہیں کی اور عملاً بھی حضرت خلیفہ اول کے خاندان پر اس سے بہت زیادہ خرچ کرنا پڑا ہے جتنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد پر کرنا پڑا۔علاوہ ازیں میں ایک لاکھ چالیس ہزار کی زمین صدر انجمن احمدیہ کو اس وقت تک دے چکا ہوں اور اس کے علاوہ میں تیس ہزار پچھلے سالوں میں چندہ کے طور پر دیا ہے اور ایک لاکھ تیس ہزار چندہ تحریک جدید میں دے چکا ہوں۔ان رقموں کو ملا لیا جائے تو جماعت نے جور قم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان پر خرچ کی ہے یہ رقم اس سے چالیس پچاس گنے زیادہ ہے اور پھر حضرت خلیفہ اول کی اولاد جبکہ دنیوی کاموں میں مشغول تھی اُس وقت میں