انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 331

انوار العلوم جلد 25 331 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات اس خط کی عبارت سے ظاہر ہے کہ اصل غرض کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ یہ خط 13 / اپریل 1956ء کا ہے اور اماں جی جولائی کے آخر یا اگست کے شروع میں فوت ہوئیں۔اس بات کو کون مان سکتا ہے کہ اللہ رکھا جیساز ٹیل 11 آدمی جس کے سپر د کوئی اہم کام نہیں۔سوائے اس کے کہ بعض گھرانوں میں چپڑاسی یا باورچی کا کام کرتا ہے۔اس نے باوجود اس عشق و محبت کے جو اُسے حضرت خلیفہ اول کے خاندان سے تھی اماں جی جو جولائی یا اگست میں فوت ہوئی تھیں اُن کی تعزیت کا خط مولوی عبد الوہاب کو مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں لکھا اور مولوی عبد الوہاب صاحب نے اُس کا جواب 13 / اپریل کو دیا اور تعزیت کے مضمون سے بالکل بے تعلق خط کے آخر میں یہ بھی لکھ گئے کہ ”کوہ مری ضرور دیکھئے“۔احباب کو معلوم ہے کہ 24 / اپریل کو میں مری آیا تھا لیکن اس سے پہلے دس یا گیارہ اپریل کو میں نے عبد الرحیم احمد اپنے نام نہاد داماد کو کو ٹھی تلاش کرنے کے لئے مری بھیجا تھا اور اُس نے 12/ اپریل کے قریب ربوہ پہنچ کر کو ٹھی کی اطلاع دی تھی جسے ہم نے پسند کر لیا تھا اور عبد الرحیم احمد میاں عبد المنان کا یارِ غار ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس سے سن کر اپنے بھائی کو اطلاع دے دی کہ خلیفتہ المسیح مری جانے والے ہیں اور عبد الوہاب کو فوراً یاد آگیا کہ 9 مہینے پہلے آئے ہوئے تعزیت کے خط کا جواب اللہ رکھا کو فوراً دینا چاہیے۔اور یہ بات بھی اُن کے دماغ میں آگئی کہ یہ بھی لکھ دیا جائے کہ کوہ مری ضرور دیکھئے کیونکہ اُس وقت میرے مری آنے کا فیصلہ ہو گیا تھا اور پہاڑوں پر چونکہ عام طور صحت کے لئے لوگ باہر جاتے ہیں اور پہرہ کا انتظام پورا نہیں ہو سکتا اس لئے اللہ رکھا کو تعزیت کے خط کے جواب میں تاکید کر دی کہ کوہ مری ضرور دیکھئے“۔اتنے مہینوں کے بعد تعزیت کا جواب دینا اور اُس وقت دینا جبکہ میرے مری جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔خط کے آخر میں یہ بے جوڑ فقرہ لکھ دینا ایک عجیب اتفاق ہے جس کے معنی ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے۔اول تو تعزیت کے جواب میں مری دیکھنے کا ذکر ہی عجیب ہے پھر "ضرور " اور بھی عجیب ہے۔اور پھر اُس وقت یہ تحریک جب میں مری آ رہا تھا اور بھی زیادہ عجیب ہے۔مرزا محمود احمد “