انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 328

انوار العلوم جلد 25 328 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات ”میاں عبد الوہاب صاحب! جواب آپ کا خط ملا ساری بحثیں الفضل میں آ رہی ہیں۔مجھے آپ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔بیسیوں احمدیوں کی حلفیہ شہادتیں جو عنقریب شائع ہو جائیں گی ان کے بعد پوچھنے کا سوال نہیں رہتا۔خصوصاً جبکہ 1926ء 1927ء میں مدرسہ احمدیہ کے لڑکوں نے آپ کا اور آپ کے ایک مولوی دوست کا خط پکڑ کر مجھے بھجوا دیا تھا جو زاہد کے نام تھا اور جس میں لکھا ہوا تھا کہ تمہاری مخالفت مرزا محمود سے ہے۔ان کے متعلق جو چاہو مقابلہ میں لکھو مگر ہمارے اور ہمارے دوستوں کے متعلق کچھ نہ لکھو۔اور اُس خط کے ساتھ ایک اور شخص کا خط بھی تھا جو آپ کے ایک دوست نے ایک عورت کے نام لکھا تھا اور جس کے واپس لینے کے لئے آپ اور وہ مولوی صاحب مقبرہ بہشتی جانے والی سڑک پر پیپل کے درخت کے نیچے کھڑے ہوئے ایک لڑکے کے ذریعہ سے زاہد سے خط و کتابت کر رہے تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ لڑکا مخلص احمد ی ہے۔وہ لڑکا وہ خط لے کر سیدھا میرے پاس پہنچا جس میں آپ دونوں اور تیسرے دوست کے خطوط بھی تھے اور زاہد کا وعدہ بھی تھا کہ اس دوست کو ہم بد نام نہیں کریں گے۔اب ان واقعات کے بعد جب کہ میں نے حضرت خلیفہ اول کی محبت کی وجہ سے اتنی مدت چھپائے رکھا مجھے تحقیقات کی کیا ضرورت تھی۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ثبوت ہیں جو منصہ ظہور پر آجائیں گے۔قادیان کی باتیں قادیان کے ساتھ ختم نہیں ہو گئیں۔کچھ ادھر آپہنچی ہیں، کچھ پہنچ جائیں گی۔لاہور کی باتیں تو مزید بر آں ہیں۔آپ جو کام کر رہے ہیں اگر خلیفہ اول زندہ ہوتے تو اس سے بھی بڑھ کر آپ سے سلوک کرتے جو میں کر رہا ہوں۔اُن کی تو یہ کہتے ہوئے زبان خشک ہوتی تھی کہ "میاں! میں تمہارا عاشق ہوں اور میں مرزا صاحب کا ادنیٰ خادم ہوں"۔جب وہ آپ لوگوں کی یہ کارروائیاں دیکھتے تو اس کے سوا کیا کر سکتے تھے کہ آپ پر ابدی لعنت ڈالتے۔آخر وہ نیک انسان تھے۔کیا ان کو نظر نہیں آتا تھا اور اب پرانے ریکارڈ دیکھ کر جماعت کو