انوارالعلوم (جلد 25) — Page 308
انوار العلوم جلد 25 308 منافقین کے تازہ فتنہ کے متعلق پیغامات و اعلانات (2) مجلس خدام الاحمدیہ کراچی کے پہلے سالانہ اجتماع کے لئے پیغام مؤرخہ 1956ء-7-24 "خیبر لاج مری (1956ء-7-24) خدام الاحمدیہ کراچی عزیزان! السّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کے افسران نے مجھ سے خدام الاحمدیہ کراچی کے جلسہ کے لئے پیغام مانگا ہے۔میں اس کے سوا پیغام کیا دے سکتا ہوں کہ 1914ء میں جب میں خلیفہ ہوا اور جب میری صرف 26 سال عمر تھی خدام الاحمدیہ کی بنیاد بھی نہیں پڑی تھی مگر ہر احمدی نوجوان اپنے آپ کو خادم احمدیت سمجھتا تھا۔مجھے یاد ہے کہ جس دن انتخاب خلافت ہونا تھا مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے ایک ٹریکٹ شائع ہوا کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے صدر انجمن احمد یہ ہی حاکم ہونی چاہئے۔اُس وقت چند نوجوان نے مل کر ایک مضمون لکھا اور اُس کی دستی کا پیاں کیں۔اُس کا مضمون یہ تھا کہ ہم سب احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت فیصلہ کر چکے ہیں کہ جماعت کا ایک خلیفہ ہونا چاہئے ، اس فیصلہ پر ہم قائم ہیں اور تاز اور تازندگی قائم رہیں گے اور خلیفہ کا انتخاب ضرور کرا کے چھوڑیں گے۔سکول کے درجنوں طالبعلم پیدل اور سائیکلوں پر چڑھ کے بٹالہ کی سڑک پر چلے گئے اور ہر نو وارد مہمان کو دکھا کر اُس سے درخواست کی کہ اگر آپ اس سے متفق ہیں تو اس پر دستخط کر دیں۔جماعت احمدیہ میں خلافت کی بنیاد کا وہ پہلا دن تھا اور اس بنیاد کی اینٹیں رکھنے والے سکول کے لڑکے تھے۔مولوی صدر الدین صاحب اُس وقت ہیڈ ماسٹر تھے اُن کو پتہ لگا تو وہ بھی بٹالہ کی سڑک پر چلے گئے۔وہاں انہوں نے دیکھا کہ سکول کا ایک لڑکا نو وارد مہمانوں کو وہ مضمون پڑھوا کر دستخط کروا رہا ہے۔انہوں نے وہ کاغذ اس سے چھین کر پھاڑ دیا اور کہا چلے جاؤ۔وہ لڑکا مومن تھا اُس نے کہا مولوی صاحب! آپ ہیڈ ماسٹر ہیں اور مجھے مار بھی سکتے ہیں مگر یہ مذہبی سوال ہے میں اپنے عقیدہ کو آپ کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا۔