انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 276

انوار العلوم جلد 25 276 سیر روحانی نمبر (9) شاخ سے گرہ بندھی ہوئی تھی۔میں نے وہ گرہ کھولی تو معلوم ہوا کہ اُس کو کبھی زخم لگا تھا۔جسے اُس نے ڈاکٹر کی طرح کیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی چونچ سے یا کسی دوسری فاختہ کی چونچ سے وہ زخم سلوایا۔جب میں نے اُس کا شکار کیا تو وہ زخم بالکل مندمل ہو چکا تھا۔چنانچہ جب میں نے گرہ کھولی تو میں نے دیکھا کہ وہ زخم بالکل ٹھیک ہو چکا تھا اور نیچے سے خشک چمڑا نکل آیا تھا۔اسی طرح علم حیوانات کے متعلق فرماتا ہے اَو لَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا انْعَامًا فَهُمْ لَهَا مُلِكُونَ - وَذَلَّلْنَهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ - وَ لَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ - 46 یعنی کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ کئی قسم کی ہیں۔بعض پر وہ سواریاں کرتے ہیں، بعض کو وہ کھاتے ہیں اور بعض سے وہ اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔مثلاً ان کے چمڑے وغیرہ کئی کام آتے ہیں اور بعض جانوروں کے دودھ پیتے ہیں۔کیا وہ ان نعمتوں پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے ؟ یعنی جانور کو بھی صرف دیکھنا نہیں چاہئے بلکہ غور کرنا چاہئے کہ اس کے گوشت میں کوئی زہر تو نہیں ہے۔بچپن کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے بچپن میں مجھے ہوائی بندوق کے شکار کا شوق ہوا کرتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی شکار 1 پسند تھا کیونکہ یہ طاقت قائم رکھتا ہے۔میں آپ کے لئے فاختائیں مار کر لایا کرتا تھا۔ایک دفعہ فاختہ نہ ملی تو طوطا مار کر لے آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھ تو لیا مگر تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز دی کہ محمود! ادھر آؤ۔میں گیا تو آپ نے طوطا اُٹھایا اور فرمایا دیکھو محمود! اللہ تعالیٰ نے سارے جانور کھانے کے لئے نہیں بنائے، کچھ دیکھنے کے لئے بھی بنائے ہیں۔طوطا ایک خوبصورت جانور ہے یہ خدا نے دیکھنے کے لئے بنایا ہے۔تم نے سمجھا کہ ہر ایک جانور کھانے کے لئے ہے۔یہی قرآن کریم فرماتا ہے کہ جانوروں پر بھی غور کرو۔اُن کی خاصیتیں الگ الگ ہیں۔کچھ کھانے کے لئے اچھے ہیں، کچھ دیکھنے کے لئے اچھے ہیں، کچھ بولنے کے لحاظ سے ނ