انوارالعلوم (جلد 25) — Page 257
انوار العلوم جلد 25 257 سیر روحانی نمبر (9) کے دل پتھر بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں کیونکہ پتھروں میں سے تو بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کے نیچے سے پانی بھی نکل آتا ہے لیکن ان کے دلوں میں سے کوئی ایمان کا قطرہ نہیں نکلتا۔اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ پانی ان پتھروں میں سے نکلتا ہے بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اُن کے پیچھے پانی ہوتا ہے جو اُن پتھروں کو پھاڑ دیتا ہے اور پھر اُن میں سے نہر بہنے لگ جاتی ہے۔مگر یہ کفار ایسے سخت دل ہیں کہ ان کے دلوں کے پیچھے جو روحانی پانی ہے وہ اُن میں سے بہنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا۔جسمانی اور روحانی علوم بھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دلوں کے پیچھے بھی پانی ہو تا ہے اور سخت دل انسان بھی نہروں سے مشابہت رکھتے ہیں بعض دفعہ اس کا مقابلہ نہ کرکے اس کے آگے جھک جاتے ہیں اور اُن میں سے پانی نکلنے لگ جاتا ہے۔پس پانی کے معنے گویا روحانی اور جسمانی علوم کے ہیں۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ اِسی حقیقت کا اِن الفاظ میں ذکر فرماتا ہے کہ إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا كَمَاء انْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ ، حَتَّى إِذَا اَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَيَّنَتْ وَ ظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَدِرُونَ عَلَيْهَا اتهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَهَا حَصِيدًا كَانْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔10 یعنی دنیا کی زندگی کی مثال ایک پانی کی طرح ہے کہ ہم آسمان سے اُتارتے ہیں۔پھر اُس سے زمین کا سبزہ مل جاتا ہے جس کو لوگ بھی کھاتے ہیں اور جانور بھی کھاتے ہیں اور زمین بڑی سر سبز ہو جاتی ہے۔اور لوگ سمجھتے ہیں کہ آب وہ اُس کھیتی پر قبضہ کر لیں گے مگر اچانک دن کو یا رات کو خدا تعالیٰ کا کوئی عذاب نازل ہو جاتا ہے اور وہ اِس طرح تباہ ہو جاتی ہے کہ گویا گل یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔اور جو لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اُن کے لئے ہم اِسی طرح اپنی آیات کھول کر بیان کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ دینی یا دنیوی علوم تو پانی کی طرح صاف ہوتے ہیں لیکن لوگوں کے وہ بد خیالات جو زمین کی نباتات کی طرح ہوتے ہیں اور جو ان کے دماغوں میں اُٹھتے رہتے ہیں جو دین یا دنیا کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہ علوم بجائے فائدہ بخش ہونے کے