انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 256

انوار العلوم جلد 25 256 عالم روحانی کی نہریں سیر روحانی نمبر (9) " آج میں دوستوں کے سامنے اُسی مضمون کی ایک کڑی بیان کرنا چاہتا ہوں جو 1938 ء سے جاری ہے اور جس کا تعلق میرے حیدر آباد اور دہلی کے سفر کے ساتھ ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ اس سفر میں میں نے سولہ چیزیں دیکھی تھیں جن کا میری طبیعت پر گہرا اثر ہوا۔آج میں انہی میں سے ایک اور چیز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اِس سفر میں جو نظارے دیکھے اور جن عجائبات نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا اُن میں بڑے بڑے بادشاہوں کے تیار کردہ قلعوں اور مسجدوں اور میناروں وغیرہ کے علاوہ کچھ نہریں بھی تھیں جو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں پانی پہنچاتی تھیں اور جو پیاسی فصلوں اور درختوں کے لئے ایک نئی زندگی کا موجب ہوتی تھیں۔میں نے ان نہروں کو دیکھا اور غور کیا کہ کیا پیاسی دنیا کی سیرابی کا انتظام ان دنیوی نہروں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے عالم روحانی میں بھی پیاسی دنیا کی سیرابی کے لئے کوئی نہریں بنائی ہیں یا نہیں ؟ اور اگر بنائی ہیں تو وہ دنیا کو کس طرح سیراب کر رہی ہیں۔دنیوی نہروں کے فوائد اس نقطہ نگاہ کے مطابق جب میں نے سوچا تو میرے دل میں سوال پیدا ہوا کہ نہروں کا کیا کام ہوتا ہے؟ اور پھر میرے دل نے خود ہی اِس سوال کا یہ جواب دیا کہ نہروں کا کام لوگوں کے لئے پانی مہیا کرنا ہوتا ہے جس سے کھیتوں کو بھی پانی ملتا ہے، پینے کے لئے بھی پانی مہیا ہوتا ہے اور پھر پانی کا ذخیرہ بھی جمع رہتا ہے اور یہی فوائد روحانی دنیا میں دینی علوم اور معارف سے حاصل ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے قرآن کریم میں دینی علوم اور معارف کا نام بھی نہریں رکھا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعہ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتا ہے ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةٌ وَ إِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهرُ یعنی مخالفین اسلام