انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 206

انوار العلوم جلد 25 206 متفرق امور ہے۔اسی طرح واشنگٹن میں دیر سے زمین خریدی ہوئی ہے وہاں بھی مسجد بنانی ہے۔وہاں تو کوئی دولاکھ کے قریب رقم لگے گی۔بہر حال یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے لئے جماعت کو اپنی آمد نہیں بڑھانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔اور اپنے چندے بڑھانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔میرا اندازہ یہ ہے کہ اب ہماری صدر انجمن احمدیہ کا چندہ اور تحریک جدید کا چندہ پچیس پچیس لاکھ تک پہنچ جانا چاہئے۔اگر پچیس پچیس لاکھ تک یہ چندے پہنچ جائیں تو امید ہے کہ ادھر ہم مرکزی اداروں کو مضبوط کر سکیں گے اور ریویو کی اشاعت بھی بڑھا سکیں گے اور دوسرے یورپین ممالک میں جہاں جہاں ضرورت ہے وہاں تحریک جدید نئے مشن بھی قائم کر سکے گی۔میرے نزدیک سب سے بڑی ذمہ داری زمینداروں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ زمیندار ہی ہماری جماعت میں سب سے زیادہ ہیں۔اسی فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہماری جماعت میں زمیندار ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے اور ہماری جماعت پر رحم کرے کہ نہایت نکما اور ست ہے۔میں چونکہ خود بھی زمیندار ہوں میں یورپ میں ہر جگہ پوچھتا پھرتا تھا کہ یہاں زمیندار کی کیا آمد ہے؟ مجھے معلوم ہوا کہ اٹلی میں فی ایکڑ چودہ سو روپیہ پیدا کیا جاتا ہے اور ہالینڈ والوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں تو تین ہزار گلڈرز یعنے تین ہزار روپیہ فی ایکڑ پیدا کیا جاتا ہے۔ہمارے بعض وزراء جاپان گئے تھے تو انہوں نے آکر بیان کیا کہ وہاں چھ ہزار روپیہ فی ایکڑ پیدا کیا جاتا ہے اور ہمارے ملک میں چھ یا سات سو روپے فی ایکڑ پیدا کیا جاتا ہے۔گویا جاپان سے ہزارواں حصہ کم ، اٹلی سے دو سواں حصہ کم اور ہالینڈ سے پانچ سواں حصہ کم آمد پیدا کی جاتی ہے۔ہمارے زمیندار نہ تو وقت پر ہل چلاتے ہیں، نہ اچھا بیچ لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں " چلو بی ہی سٹنا ہے کتھوں لبھ پیاسہی"۔میں نے ایک دفعہ ایک رسالہ میں پڑھا کہ مکئی کی فصل امریکہ میں بڑی کامیاب ہوئی ہے اور ایک بیج انہوں نے ایسا نکالا ہے جس کی پیداوار اچھی زمین میں قریباً 175 من فی ایکڑ ہوتی ہے۔اب دیکھ لو 175 من مکئی اگر چھ روپیہ فی من بھی ہے۔اوّل تو اس سے