انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 185

انوار العلوم جلد 25 185 افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1955ء تب جاکے اتنے واقفین مل سکتے ہیں جو سلسلہ کی ساری ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔اگر آپ لوگ اپنی نسلوں میں یہ احساس پیدا کریں کہ تم میں سے جو وقف کرے دوسرے لوگ اس کی خدمت کیا کریں تو یہ کام بڑی آسانی سے ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اپنے چندے بڑھاؤ اور صرف اپنے ہی نہ بڑھاؤ اپنے دوستوں کے بھی بڑھواؤ۔اور جو غیر احمدی دوست ہیں اُن سے بھی چندے لو۔ان میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کے اندر دین کا درد ہے۔مجھے یاد ہے میر محمد اسحق صاحب مرحوم جب بچے تھے۔حضرت خلیفہ اوّل نے میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو جو ہمارے نانا تھے فرمایا کہ اسحق کو میرے پاس بھیجا کریں میں اس کو قرآن حدیث پڑھاؤں گا۔وہ تھے تو اہلحدیث مگر طبیعت بڑی جو شیلی تھی کہنے لگے اسماعیل ڈاکٹری میں پڑھتا ہے اسحاق اگر آپ کے پاس قرآن حدیث پڑھے گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمیشہ میرا ایک بیٹا میرے دوسرے بیٹے کے آگے ہاتھ پھیلائے گا کہ میرے لئے کچھ کھانے کا سامان کرو۔حضرت خلیفہ اوّل فرمانے لگے کہ میر صاحب! آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا دوسرے بیٹے کے آگے ہاتھ پھیلائے گا؟ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ میرے اس بیٹے کے طفیل خدا دوسرے بیٹے کو رزق دے گا۔تو اپنی اولاد کو آپ لوگ یہ احساس پیدا کرائیں کہ جو تم میں سے واقف زندگی ہو تمہارا فرض ہے کہ اپنی آمدنوں میں سے ایک معقول حصہ اُس کی خدمت کے لئے دیا کرو تا کہ اُس کی فکر معیشت دور ہو جائے۔سو ایک طرف جو دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے ہیں اُن کو یہ تعلیم دیں اور جو دوسرے ہیں اُن کو دینی تعلیم دلائیں۔اور اصل چیز تو یہ ہے کہ قرآن شریف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں پڑھ پڑھ کے آپ لوگ خود اپنی تعلیم اتنی مکمل کریں کہ اپنے گھروں میں ہی ہر شخص واقف ہو جائے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو صحابہ تھے وہ کون سے شاہد پاس تھے۔بس ایک آگ اُن کے دلوں میں لگی ہوئی تھی۔وہ آگ لگ جائے تو سب کام آپ ہی آپ ہو جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے جو لوگ