انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 177

انوار العلوم جلد 25 177 مجلس انصار الله و خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1955 ءمیں خطابات احمدیوں کے جو ان ابدال ہونے چاہئیں۔وہ خوب دعائیں مانگیں اور اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کریں کہ وہ اپنے فضل سے ان سے بولنے لگ جائے اور وہ جوانی میں ہی صاحب کشف و کرامات ہو جائیں۔اور محلہ کے لوگوں کو جب مصیبت پیش آئے وہ دوڑے دوڑے ایک خادم احمدیت کے پاس آئیں اور آکر کہیں کہ دعا کرو ہماری یہ مصیبت ٹل جائے۔جب تم جذبہ اخلاص سے ان کے لئے دعا کرو گے تو پھر خدا تمہاری دعائیں بھی زیادہ قبول کرنے لگ جائے گا اور لوگوں کو ماننا پڑے گا کہ تمہاری دعا ایک بڑی قیمتی چیز ہے۔بہر حال ان نصیحتوں کے بعد میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔مصافحہ تو میں کر چکا ہوں۔اب آپ لوگوں کے لئے دعا کر کے آپ لوگوں کو رخصت کرتا ہوں۔باقی کام آپ کے متضمین سر انجام دیں گے۔میں آپ کو السّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ کر آپ سے رخصت ہو تا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور قیامت تک آپ لوگ اور کی نسلیں دین کی خادم رہیں، خدا کی محب رہیں، خدا سے تم محبت کرنے والے ہو اور خدا تم سے محبت کرنے والا ہو۔کبھی تمہارا دشمن تم پر غالب نہ آئے بلکہ تم خدا کی مدد اور اس کی نصرت سے نیکی اور تقویٰ کے ساتھ لوگوں پر غالب آؤ۔شرارت اور فساد کے ساتھ نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کے ساتھ تاکہ اسلام تمہاری ترقی سے فائدہ اٹھائے اور کسی کو تمہاری ترقی سے نقصان نہ پہنچے اللهُمَّ آمِينَ ، دیکھو! میں نے کہا تھا تو گل کرو۔سو تو گل کے معنی ہیں احمدیت کا صحیح مقام۔اس کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ کہو احمدیت زندہ باد۔اور میں نے کہا تھا کہ خدمت احمدیت کے سٹینڈرڈ پر کرو جس کے معنی یہ ہیں کہ انسانیت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرو۔سواس کے مطابق میں کہتا ہوں کہ تمہارا نعرہ یہ ہونا چاہیئے۔انسانیت زندہ باد۔اللہ تعالیٰ تم کو وہ سٹینڈرڈ قائم رکھنے کی توفیق دے جس سے وہ اعلیٰ جذبات انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا 7 کے مطابق پیدا کی ہیں وہ قائم رہیں اور انسان کی وہ شکل دنیا کو نظر آئے جس کے متعلق قرآن میں خدا کہتا ہے کہ میں نے بنائی ہے۔