انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 92

انوار العلوم جلد 25 92 احباب جماعت کے نام پیغامات سہارے سے ایک دو قدم چل سکتا ہوں مگر وہ بھی مشکل سے۔اور چلنے سے پیر لڑکھڑا جاتے ہیں اور گھٹنوں میں درد معلوم ہوتی ہے۔دماغ اور زبان کی کیفیت ایسی ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے بھی خطبہ نہیں دے سکتا اور ڈاکٹروں نے دماغی کاموں سے قطعی طور پر منع کر دیا ہے۔حتی کہ معمولی ملاقاتوں سے بھی۔اُن کے خیال میں مجھے کسی چیز کے متعلق سوچنا نہیں چاہئے اور ابھی میرے سامنے تفسیر قرآن کا بہت بڑا کام پڑا ہے۔ان حالات میں ڈاکٹری مشورہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ میں اہل و عیال اور دفتری عملہ کو لے کر کچھ عرصہ کے لئے یورپ چلا جاؤں تا کہ جلد ہی اس مرض کی روک تھام ہو جائے۔پہلے امریکہ کا خیال تھا مگر چونکہ امریکہ کا ایکسچینج نہیں ملتا اس لئے اس ارادہ کو چھوڑنا پڑا لیکن یورپین علاقہ میں انگریزی سکہ چل جاتا ہے اور برطانوی کامن ویلتھ کے مختلف علاقوں میں ہماری جماعت خدا کے فضل سے کافی تعداد میں موجود ہے مثلاً افریقہ کے کئی علاقے وغیرہ وغیرہ۔اس لئے یورپ جانے میں مشکلات بہت کم ہیں۔میں نے عزیزم چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو مشورہ کے لئے تار دی تو انہوں نے تار میں جواب دیا ہے کہ خدا کے فضل سے یورپ کے بعض ممالک میں علاج کی بہت سی سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں اور کامل سامان مل سکتا ہے۔اس لئے پیشتر اس کے کہ تکلیف بڑھ جائے میں یورپ چلا جاؤں اور وہاں کے ڈاکٹروں سے علاج کرواؤں تاکہ میں اچھا ہو کر خطبہ بھی دے سکوں، تفسیر بھی مکمل کر سکوں اور جماعتی ترقی کے لئے جس غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے وہ قائم رہے۔چونکہ سکہ کی دقتیں یورپ کے سفر میں ہمارے راستے میں اس قدر روک نہیں ہوں گی جس قدر امریکہ کے سفر میں ہو سکتی ہیں اس لئے اس سفر کے لئے ممکن ہے کہ اگر سلسلہ کے پاس روپیہ ہو تو گورنمنٹ کی طرف سے غیر ملکی سکہ مل جائے۔یا اگر ہماری افریقہ کی جماعتیں اخلاص کا ثبوت دیں تو غیر ملکی سکہ کی بہت سی مشکلات اُن کے ذریعہ سے پوری ہو جائیں گی کیونکہ اُن کے پاس وہی سکہ ہے جو یورپ میں چلتا ہے۔جب میں 1924ء میں انگلینڈ گیا تھا تو ہندوستان کی مالی حالت بہت خراب تھی