انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 36

انوار العلوم جلد 24 ہے 36 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کے لئے نہیں جاتے بلکہ ہر دوار یا کسی اور جگہ پر حج کے لئے جاتے ہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ احمدی کلمہ اسلامی نہیں پڑھتے بلکہ کوئی اور کلمہ پڑھتے ہیں۔اگر احمدی بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے ، وہی قرآن پڑھتے ہیں جو حنفیوں اور اہلحدیثوں کے مطبعوں میں چھپا ہوتا ہے، اسی خانہ کعبہ کا حج کرتے ہیں جو مکہ مکرمہ میں ہے اور مجدی حکومت کے ماتحت ہے تو کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اس جگہ پر تمثیلی زبان میں کلام کیا گیا ہے نہ کہ زبان کے اصلی مفہوم کے مطابق۔اگر تو احمدیوں کے پاس واقعی کوئی اور قرآن ہوتا، اگر احمدی واقع میں مکہ مکرمہ میں حج کے لئے نہ جاتے (جماعت احمدیہ کے خلیفہ اول بھی مکہ مکرمہ میں حج کر کے آئے تھے اور خلیفہ ثانی بھی مکہ مکرمہ میں حج کر کے آئے ہیں) تب تو مودودی صاحب کو اس عبارت سے استدلال کرنے اور جوش دلانے کا کوئی موقع تھا لیکن جب واقعہ یہ نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ ”اسلام اور ہے“ سے صرف اتناہی مراد ہے کہ دوسرے لوگ اسلام کی پوری پابندی نہیں کرتے اور ”قرآن اور ہے“ سے صرف یہ مراد ہے کہ دوسرے لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے اور ”خدا اور ہے“ سے صرف یہ مراد ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور ”حج اور “ سے صرف یہ مراد ہے کہ حج کی شرائط کو وہ پورا نہیں کرتے اور کیا یہ واقعہ نہیں۔یہ واقعہ نہیں تو اس شخص کے متعلق کیا فتویٰ ہے جس نے یہ لکھا کہ :- میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ مسلمان اور کافر میں علم اور عمل کے سوا کوئی فرق نہیں ہے۔اگر کسی شخص کا علم اور عمل ویسا ہی ہے جیسا کافر کا ہے اور وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو بالکل جھوٹ کہتا ہے۔کافر قرآن کو نہیں پڑھتا اور نہیں جانتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔یہی حال اگر مسلمان کا بھی ہو تو وہ مسلمان کیوں کہلائے۔کافر نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تعلیم ہے اور آپ نے خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ کیا بتایا ہے۔اگر مسلمان بھی اسی طرح