انوارالعلوم (جلد 24) — Page 568
انوار العلوم جلد 24 568 سال 1954ء کے اہم واقعات اس نے میر اخیال کیا ہے وہ خط میری معرفت بھیج دیا۔انہوں نے ایک دفعہ نقل مانگی تو مجھے پہلے تو اس کا پتہ بھی نہیں تھا مگر پھر جو دیکھا تو وہ انہی کے نام کی تھی بہر حال ہم نے اس کو پڑھ کے دیکھا ہے۔وہ تحریر پڑھی ہی نہیں جاتی۔عربی کا ایک چھوٹا سا خط ہے مگر اُس زمانہ میں ہمارے لکھنے والے ایسے ہی ہوتے تھے۔کچھ فرق بھی تھا یعنی اُس زمانہ میں زیر زبر نہیں ہوتی تھی، نقطہ نہیں ہوتا تھا لیکن یہ بھی ہے کہ وہ ایسی طرز پر لکھتے تھے جیسے ہمارے آجکل کے زمانہ میں زمیندار جو بہت تھوڑا سا پڑھا ہوا ہوتا ہے لکھتا ہے۔مثلاً کسی جگہ اس نے سوٹی کا لفظ لکھنا ہو تو اس " الگ لکھ دیا۔"واو" الگ لکھ دی۔"ٹ" الگ لکھ دی اور ہی الگ لکھ دی۔گویا یہ اپنی طرف سے سوئی ہو گئی۔اس کو پتہ ہوتا ہے کہ میں نے سوئی لکھا ہے اور وہ پڑھتا ہے تو سوٹی پڑھتا ہے لیکن دوسرا پڑھتا ہے تو وہ کہتا ہے س وٹ کی۔اسی طرز پر اس خط کی تحریر ہے کہ بیچ میں وقفے ہیں اور حروف کے در میان ان کے جوڑ بالکل نہیں ہیں یہی اُس زمانہ کی تحریر ہوتی تھی اور اس کو بھی بہت تھوڑے لوگ جانتے تھے۔اور پھر نہ زبر ہوتی تھی ، نہ زیر ہوتی تھی، نہ نقطہ ہوتا تھا۔تو اگر اتنا بھی کوئی شخص لکھ دیتا ہے تب بھی کم سے کم وہ اپنے خیالات کو ڈہر اتو سکتا ہے۔مثلاً میں یہاں تقریر کر رہا ہوں اگر کسی کو اتناہی لکھنا آتا ہو اور وہ اس قسم کے حروف لکھ کر لے جائے تو بے شک تم پڑھو گے تو اس پر ہنسو گے۔لیکن تم ہنسو گے اور وہ اپنے گھر میں جاکر سارے رشتہ داروں کو تقریر سنادے گا کہ یہ دیکھو میں نے لکھی ہے کیونکہ اپنا لکھا ہوا پڑھنا اس کو آتا ہے دوسرے لوگ اس کا لکھا ہوا نہیں پڑھ سکتے۔مشہور ہے کہتے ہیں کسی شخص کو کسی نے کہا تھا کہ خط لکھ دے تو اس نے کہا میری لات میں درد ہے میں نہیں لکھ سکتا۔اس نے کہا تم نے خط تو ہاتھ سے لکھنا ہے لات کے درد کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔وہ کہنے لگالات کے درد کا سوال یہ ہے کہ جہاں خط جائے گا پڑھ تو کسی نے سکنا نہیں اس نے پڑھنے کے لئے مجھے ہی بلانا ہے۔اب لات ٹھیک ہو تو میں جاؤں۔تو بے شک ایسا ہی خط ہو ، حرج کیا ہے۔بہر حال وہ تو اپنا خط جا کے پڑھے گا مگر ہمارے ہاں تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔میرے ایک دو بچے ایسے ہیں دو لڑکیاں ہیں