انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 532

انوار العلوم جلد 24 532 سال 1954ء کے اہم واقعات بھی تم سمجھ لو کہ تمہارا ان کو سمجھانا کتنا مشکل کام ہے۔جہاں عورتوں کو میں نے ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے۔وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ مردوں کو بھی عورتوں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی جائے۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت عورتوں کے حقوق کے متعلق پوری طرح اسلامی ہدایات پر کار بند نہیں ہوئی۔کثرت کے ساتھ یہ شکایتیں پیدا ہوتی ہیں کہ مرد جب دوسری شادی کر لیتے ہیں تو ان کی پہلی بیوی کے بچے آوارہ پھرتے ہیں وہ ان کی خبر گیری نہیں کرتے۔ان کی معیشت کے سامان مہیا نہیں کرتے اور ان عورتوں کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے۔آج بھی جو عورتیں ملنے آئیں ان میں ایک لڑکی بھی تھی وہ بُرقع میں لیٹی ہوئی آئی اور اس نے بغیر کچھ کہے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا آخر ملاقات کر انے والی عورتوں نے یہ دیکھ کر کہ وقت ہو گیا ہے اسے اٹھالیا مگر پھر اس کی سسکیاں دیکھ کر کسی کو رحم آیا اور اس نے پھر اسے میرے پاس لا بٹھایا۔میں نے کہا بیٹا بتاؤ تو سہی تمہیں کیا تکلیف ہے ؟ اس نے یہی تکلیف بتلائی کہ میرے خاوند نے مجھ سے بچے لے لئے ہیں وہ ان کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کرتا اور مجھ سے بھی بچے اس نے جدا کر لئے ہیں اور اب وہ میرے اخراجات وغیرہ کی بالکل پرواہ نہیں کرتا۔میں نے دیکھا ہے یہ مرض اچھے اچھے مخلصوں میں بھی پایا جاتا ہے۔کچھ عرصہ تک بڑا عمدہ سلوک ہوتا ہے اور اس کے بعد یکدم کسی دن رو آئی تو حالت بدل جاتی ہے بعض دفعہ ایسا قلب ماہیت دیکھا ہے کہ رات کو اچھے بھلے تعلقات تھے اور دوسرے دن سنا کہ آپس میں لڑائیاں ہو گئی ہیں۔پس مردوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔عورتوں کو اس وقت تک ان کے حقوق سے کچھ ہم نے محروم کر رکھا ہے اور کچھ شریعت نے ان کو بعض باتوں میں مجبور کیا ہوا ہے اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جن میں رسم و رواج نے ان کو مجبور کیا ہوا ہے، شریعت نے ان کو آزادی دی ہے، حقوق دیئے ہیں رسم و رواج نہیں دیئے غرض وہ اس قسم کی مظلوم ہستی ہے بلکہ اس مظلوم ہستی کے ساتھ تو رحم کا معاملہ ہونا چاہیئے اور سوائے اس کے کہ ہم اس کے حقوق ادا نہ کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے اپنے پاس